کروڑوں روپئے کا دھوکہ باز میہول چوکسی ملک سے فرار !

نریندر مودی اور وزیراعظم انیگواگسیٹن براؤن کے ملاقات کی تصویر پر شک میں مزید اضافہ

حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) میہول چوکسی اور نیرو مودی کی ملک سے فراری کے متعلق کئے جانے والے مختلف دعوؤں کو آج بعض سرکاری ذرائع سے ہی توثیق حاصل ہونے لگی ہے لیکن سرکاری طور پر اس سلسلہ میں کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گیا مگر سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم اینٹیگوا مسٹر گیسٹن براؤن کی چائے پر چرچہ والی تصویر نے دھوم مچائی ہوئی ہے۔ پنجاب نیشنل بینک کو 13ہزار 500کروڑ کا دھوکہ دیتے ہوئے ملک سے فرار اختیار کرنے والے میہول چوکسی کے متعلق اینٹیگوا کا پاسپورٹ خریدے جانے کی اطلاع کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی کی وزیر اعظم اینٹیگوا سے ملاقات کی تصاویر گشت کرنے لگی ہیں اور کئی شبہات کا اظہار کیا جا رہاہے ۔میہول کی ملک سے فراری کے بعد حکام نے ان کے خلاف انٹرپول نوٹس جاری کی تھی اور ذرائع کے مطابق آج جب اس بات کی اطلاع موصول ہوئی کہ چوکسی نے گذشتہ ماہ ان کے اسی ملک کا پاسپورٹ حاصل کیا ہے اسی کی اطلاع ہندستانی حکام کو روانہ کی ۔ اس اطلاع کے عام ہوتے ہی 2018 اپریل کے دوران اینٹیگوا کے دورہ کے دوران وزیر اعظم ہند کی اینٹیگوا میںاپنے ہم منصب سے ملاقات اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگ گئیں ۔نریندر مودی کے دورہ کے بعد میہول کی جانب سے پاسپورٹ کی خریدی کی اطلاعات نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اینٹیگوا کی شہریت ملک کی ترقی کیلئے 2 لاکھ ڈالر کا عطیہ دیتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے اور میہول چوکسی نے وہی کیا ہے لیکن جس وقت یہ ہوا ہے اس سے قبل نریندر مودی کے دورہ اور وزیر اعظم سے ملاقات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے اوراستفسارکیا جا رہاہے کہ یہ اتفاق کس طرح ہو سکتا ہے اور کیسے چوکسی کو عاجلانہ شہریت فراہم کی جاسکتی ہے ؟سوشل میڈیا پر دونوں وزیر اعظم کی تصاویر گشت کرنے پر مودی بھکت تلملائے ہوئے تصاویر شئیر کرنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن وہ جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں کہ یہ اتفاق کیسے ہوا ہے اور اس اتفاق کو کس حد تک سنجیدہ لیا جانا چاہئے ۔میہول چوکسی کی فراری اور نیرو مودی اسکام کے بعد سے ہی ایسی کئی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ ان لوگوں کے پیچھے بہت بڑے ہاتھ ہیں جس کے سبب وہ ہزاروں کروڑ کی دھوکہ دہی کے بعد بھی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان سرکردہ طاقتوروں کی مدد کے سبب ہی وہ محفوظ ہیں۔