حیدرآباد۔جیسے جیسے کرناٹک الیکشن کے متعلق تصوئیر صاف ہورہی ہے اور کھلے طور پر بی جے پی کو واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار ملتا نظر آرہا ہے اور جس طرح کا قیاس لگایاجارہا تھا کہ جے ڈی ( ایس)‘ اے ائی ایم ائی ایم‘ ایم ای پی ‘ ایس ڈی پی ائی کانگریس کے اقتدار میں منگل کے روز رخنہ پیدا کریں گے وہ سچ ثابت ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔
مسلم اور سکیولر ووٹوں کو تقسیم کرنے شکریہ جو نتائج میں صاف طور پر نظر آرہا ہے کیونکہ بی جے پی جنوبی ہند کے صوبہ کرناٹک میں اقتدار پر واپسی کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوگئی ہے ‘ کانگریس یہاں دوسرے نمبر پر ہے اور تیسرے نمبر پر جے ڈی ( ایس) ہے۔
تاہم پول چارٹ میں بی جے پی کی سبقت کے باوجود ( منگل کے روز دوپہر تک ) کانگریس نے 37.8فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ جے ڈی (ایس) نے17.4فیصد ووٹ کھانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
جیسا کے گجرات کے سابق ائی پی ایس سنجیو بھٹ نے بی جے پی کے ذرائع سے اپنے ٹوئٹ کے تحت اس بات کی خبر تھی کہ ’’ وزیر اعظم نریند رمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے جے ڈی ایس ‘ ایم ائی ایم‘ اے اے پی ‘ ایم ای پی اور ایک ہزار سے زائد آزاد امیدواروں پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ کرناٹک میں سکیولرووٹو ں کو بانٹ سکیں ‘‘ اور اس کا اثر ہم نتائج کے ابتدائی رحجان میں صاف طور پر دیکھ رہے ہیں۔
According to deep sources within the BJP, Narendra Modi and Amit Shah are banking heavily on their investment in the JDS, MIM, AAP, BSP, MEP and the 1000+ Independent Candidates to split the secular vote in Karnataka.
— Sanjiv Bhatt (IPS) (@sanjivbhatt) May 11, 2018
بی جے پی ‘ جے ڈی( ایس) ‘ ایم ائی ایم اور دیگر اشتراک کی بہت ساری خبریں سامنے بھی آرہی ہیں تاکہ سکیولر ووٹوں کو تقسیم کرکے بھگوا پارٹی کو فائدہ پہنچایاجاسکے۔ سکیولر ذہنیت کے حامل لوگ جے ڈی( ایس) اور اس کے حمایتوں کو بھگوا پارٹی کی بی ٹیم قراردے رہے ہیں۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی اور ان کی پارٹی نے کرناٹک اسمبلی الیکشن میں جے ڈی ایس کی حمایت میں مہم چلائی ہے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم دیوی گوڑہ کی پارٹی جے ڈی( ایس) کی کھل کر حمایت کی تھی۔
MIM party has decided to support JD (S) party in Karnataka Assembly elections @hd_kumaraswamy we want non congress & non BJP govt in Karnataka for a qualitative development .MIM will not be fielding any candidates I will address public meetings support of JD(S) if there is need
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) April 16, 2018
کرناٹک میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد قابل ستائش ہے اور کانگریس کی کوشش یہی رہے کہ وہ غیر بی جے پی ووٹ حاصل کرسکیں۔
اے ائی ایم ائی ایم‘ ایم ای پی‘ ایس ڈی پی ائی نے جنتا دل( ایس) کی مدد کی تھی جس سے علاقے میں مسلم ووٹوں کی بڑی پیمانے پر تقسیم ہوسکی۔
جے ڈی ( ایس) نے مسلم اکثریتی والے علاقوں میں مسلم امیدواروں کو کھڑا کیاتھا تاکہ کانگریس کے امیدواروں کو ٹکر دی جاسکے اور بتایا جارہا ہے کہ بی جے پی کے لئے یہ فائدہ مند ثابت ہوا۔