چندرائن گٹہ کیس :محمد پہلوان کے بھائی اور بھتیجوں کوضمانت

حیدرآباد۔ 23 جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائیکورٹ نے چندرائن گٹہ رکن اسمبلی حملہ کیس کے 3 سزا یافتہ ملزمین کی آج ضمانت منظور کرلی۔ حملہ کیس میں سیشن کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے ایک سال بعد ہائیکورٹ نے تینوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمین کی ضمانت منظور کئے جانے کے بعد محمد پہلوان اور ان کے افرادِ خاندان میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ حسن بن عمر یافعی اور عبداللہ یافعی چیرلہ پلی سنٹرل جیل اور عود بن یونس یافعی ورنگل سنٹرل جیل میں قید ہیں اور کل اُن کی رہائی متوقع ہے۔واضح رہے کہ اس کیس کے ایک اور سزا یافتہ ملزم محمد بن سالم وھلان کی ضمانت گزشتہ سال ہی منظور کی گئی تھی۔ تفصیلات کے بموجب ہائیکورٹ کے جسٹس بی شیوا شنکر نے آج حسن بن عمر یافعی، عبداللہ بن یونس یافعی اور عود بن یونس یافعی کی درخواست ِ ضمانت پر وکیل دفاع محمد مظفر اللہ خاں ایڈوکیٹ اور پبلک پراسیکیوٹر کے درمیان بحث مکمل ہونے کے بعد آج ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے فی ملزم کو 50,000 روپئے کی دو ضمانتیں ٹرائیل کورٹ میں جمع کرنے کی ہدایت دی۔ رہائی کے بعد ملزمین کو متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ہر ہفتہ دو مرتبہ حاضری درج کرانے کے احکام بھی جاری کئے ہیں۔ واضح رہے کہ 29 جون 2017ء کو VII ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج ڈاکٹر ٹی سرینواس راؤ نے اکبرالدین اویسی حملہ کیس کے 10 ملزمین بشمول محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان کو بری کرتے ہوئے 4 ملزمین کو 10 سال کی سزا سنائی تھی۔ سیشنس کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سزا یافتہ ملزمین نے گزشتہ سال ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اپیل داخل کی تھی اور نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے اُن کی فی الفور ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی تھی۔