پکوان میں ماہر خواتین ، ہنر مند کہلاتی ہیں

مثالی گھر بنانے میں اہم رول ادا کرنے کا اعزاز ملے گا ، ماسٹر شیف پونیت مہتا کا خطاب
l روزنامہ سیاست اور فریڈم ریفائنڈسن آئیل کی پکوان کلاس
l خواتین و طالبات کی کثیر تعداد شریک ، نئے پکوانوں کی تربیت
l روزنامہ سیاست اور فریڈم ریفائنڈ آئیل کے زیر اہتمام کوکری کلاس ۔2018 (پکوان کلاس ) کا آج  10-30 بجے آغاز ہوا ۔
l سیاست کوکری کلاس میں جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر نے شرکت کی ۔
l ماسٹر شیف پونیت مہتا نے پکوان کلاس کے آغاز سے قبل خواتین و طالبات پکوان کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سماج و معاشرہ اس عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو پکوان کی ماہر ہو ۔
l ماسٹر شیف پونیت مہتا کے ساتھ آج پکوان کے دوران تعاون کرنے والوں میں شیف نتین ، شیف دھرمیندرا ، شیف ریچنا اور شیف کلدیپ جو اس کلاس کے دوران پکوان کے ترکاری کاٹنے اور مصالحہ جات ملاتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔
l ماسٹر شیف نے کہا کہ ایک خاتون اس وقت مثالی گھر بناسکتی ہے جب کہ وہ پکوان میں ماہر ہو ۔
l ماسٹر شیف مہتا نے آج پہلی ڈش بنانا کوکنٹ پین اپیل ، دوسری ڈیش چلڈیو گدرڈ سوپ ، تیسری ڈش شامی کباب ، ناجوس وتھ چکن ، بٹر چکن ، امرتسری چکن ، چوکو کافی سوس بنائی اس مظاہرہ پر خواتین و لڑکیوں نے تالیاں بجائی ۔
l شیف پونیت مہتا نے رمضان المبارک میں آسان ڈشس کی ترکیب بھی بتائی ۔۔
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ممتاز ماہر پکوان ماسٹر شیف پونیت مہتا نے آج خواتین و لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ گھر کو ایک مثالی گھر بنانے کے لیے اپنے میں چھپی ہوئی صلاحیت کو پروان چڑھائیں ۔ قدرت نے ایک انسان میں بہت ساری خوبیاں و ودیعت کردی ہیں لیکن انسان اس کو بروئے کار نہیں لاتا ۔ پکوان کے سیکھنے کے بہت سارے فوائد ہیں ایک تو لڑکی یا عورت ہنر مند کہلاتی ہے اور اس کے ذریعہ رشتہ دار ، دوست احباب کے دلوں کو جیت سکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ماسٹر شیف پونیت مہتا روزنامہ سیاست اور فریڈم ریفائنڈسن فلاور آئیل کی جانب سے ایک روزہ پکوان کلاس کے آغاز سے قبل کیا ۔ انہوں نے خواتین و لڑکیوں کے پکوان کے سیکھنے کے ذوق اور شوق کی سراہنا کی اور کہا کہ وہ اپنے ہاں موجودہ ٹکنالوجی کے رکھنے کے باوجود روزنامہ سیاست کی دعوت پر جمع ہیں ۔ واضح رہے کہ سیاست نے خواتین و طالبات سے اس کلاس میں شریک ہونے کے لیے واٹس اپ اور ایس ایم ایس کے ذریعہ رجسٹریشن کروانے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے ایک بڑی تعداد نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے پکوان کلاس میں شرکت کی ۔ ماسٹر پونیت مہتا نے کہا کہ ان کے ہاں ایسے ایسے تراکیب ہیں اگر کھانا و سالن بچ جاتا ہے تو اس کو پھینک دیا جاتا ہے لیکن انہوں نے بتایا کہ اس میں بدلاؤ لاکر ڈشس کی تیاری کی جاسکتی ہے اگر کسی کے ہاں سادہ چاول اور بریانی بچ جائے تو اس کے ذریعہ پراٹھا بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا اگلے چند دنوں میں رمضان المبارک کی ساعتوں سے گذرنے والے ہیں اس لیے سحر اور افطار میں موسم گرما کے پیش نظر ایسے ایسے ڈشس و مشروبات بنوائے جاسکتے ہیں جو تشفی بخش ہو ۔ انہوں نے ہریس و حلیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآبادی حلیم کی شہرت عالم میں مقبول ہے ۔ ماسٹر شیف پونیت مہتا کے بتائے ہوئے پکوان کے مختلف طریقوں کو خواتین و لڑکیاں نوٹ کرتی ہوئی دیکھی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ پکوان کے متعلق ایک دوسرے سے جھوٹی تعریف کرتے ہیں مگر یہ میدان عمل چاہتا ہے اس لیے جو عورت اور لڑکی پکوان میں ماہر ہوا کرتی ہے اس کی خاندان بھر میں عزت و توقیر کی جاتی ہے ۔ ماسٹر شیف نے آج کے اس پکوان کلاس میں 8 مختلف انوع و اقسام کے ڈشس کی تیاری اور اس میں کن کن مصالحہ جات کا استعمال کیا جاتا ہے بتایا ۔ اس کلاس میں خواتین و لڑکیوں سے اس بات کی خواہش کی گئی تھی کہ وہ اپنا نام ، عمر اور علاقہ بھیج کر رجسٹریشن کروالیں اس لیے بہت ساری خواتین نے رجسٹریشن کروائے اس کے باوجود آج رجسٹریشن کی سہولت رائل ریجنسی گارڈن پر رکھی گئی ۔ اس لیے خواتین و لڑکیوں کی بڑی تعداد نے شادی خانہ پہنچ کر بھی رجسٹریشن کرواتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اس پکوان کے دوران ماسٹر شیف کے ہاتھوں سے بنائے جانے والے مختلف پکوان کے طریقوں کو بآسانی طور پر دیکھنے کے لیے شادی خانہ میں جدید ٹیکنیک کا استعمال کیا گیا اور ان کے ہاتھ سے بنائے ہوئے پکوان Led کے ذریعہ راست نشریات کے ساتھ جمنی کیام کا ابھی استعمال کیا گیا جس کے ذریعہ شیف پونیت مہتا کے ہاتھوں بنائی ہوئی ڈشس کو دیکھنے میں کافی مدد ملی ۔ اس موقع پر طنز و مزاح کے ماہر فنکار جناب کے بی جانی نے ماسٹر شیف پونیت مہتا کے ساتھ پکوان کے دوران سیکھنے والے خواتین و لڑکیوں کے موڈ کو تبدیل کرنے کے لیے مزاح کی ۔ اس موقع پر آہنہ شیخ اینکر نے ان خواتین و طالبات کا تعاون کیا جنہوں نے مسٹر پونیت مہتا سے پکوان کے نت نئے طریقوں کے سیکھنے میں مختلف سوالات کررہے تھے ۔ ماسٹر شیف پونیت مہتا پکوان کے نت نئے ڈشس کی تیاری کر کے اس کا مزہ حاصل کرنے کے لیے اپنے رفقاء سے خواتین و طالبات کو تقسیم کررہے تھے ۔ پکوان کے دوران ماسٹر شیف کے خواتین نے پکوان کی ڈشس کے نام اور ترکیب کے متعلق سوالات کیے جس پر صحیح جواب دینے پر پونیت مہتا کے ہاتھوں فریڈم ریفائنڈ سن فلاور آئیل کا ایک لیٹر کا تیل بطور انعام خواتین و طالبات نے حاصل کیا ۔ ان سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ ایرانی چائے کے لذیذ ہونے کا سبب کیا ہے ۔ دھرمندرن ، رحینا ، کلدیپ نے ان کا بھر پور تعاون کیا ۔ اور جو بھی ڈشس تیار ہورہی تھیں اس ڈش کے مزے سے واقف کروایا ۔ اس موقع پر محمد اسمعیل مارکیٹنگ منیجر ، محمد بصیر ، زاہد حسین ، شیخ نظام الدین ، مظہر ، بشیر اور سیاست کی ٹیم نے انتظامات میں حصہ لیا ۔ انہوں نے مختلف پکوان کی ترکیب اور طریقہ کار کو بتایا تو خواتین اور لڑکیاں اپنے کاپیوں میں نوٹ کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ سیاست اور فریڈم رائس برن آئیل کے تعاون سے ہونے والی اس کلاس میں فریڈم آئیل کی مارکیٹنگ ٹیم شیب شرما ، شراویر اور سریش کا تعاون درکار رہا ۔ شائقین پکوان کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلے ماہ بھی روزنامہ سیاست کے زیر اہتمام پکوان کلاس کے تاریخ اور مقام کا متعاقب اعلان کیا جائے گا ۔۔