پدمنی ریڈی، بی جے پی میں شمولیت کے فوری بعد کانگریس میں واپس

سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کی بیوی کی ڈرامائی دَل بدلی سے سیاسی حلقوں میں حیرت
حیدرآباد۔ 11 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں آج دن بھر ڈرامائی سرگرمیاں دیکھنے کو ملی۔ کانگریس منشور کمیٹی کے صدرنشین و سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج کی شریک حیات پدمنی ریڈی نے کانگریس کو جھٹکا دیتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی جو دونوں تلگو ریاستوں میں موضوع بحث بن چکا تھا۔ صرف چند گھنٹوں میں پدمنی ریڈی نے گھر واپسی کرتے ہوئے بی جے پی کو جھٹکا دے دیا ہے۔ پدمنی ریڈی بھی اس مرتبہ پارٹی ٹکٹ کی دوڑ میں تھی اور وہ اسمبلی حلقہ سنگاریڈی سے مقابلہ کرنے کی خواہش مند تھی تاہم کانگریس پارٹی کی قیادت نے سابق گورنمنٹ وہپ جگا ریڈی کو سنگاریڈی سے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آج دوپہر میں پدمنی ریڈی حیدرآباد پہنچ کر بی جے پی کے ہیڈکوارٹرس میں صدر تلنگانہ بی جے پی ڈاکٹر لکشمن سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری مدلیدھر راؤ کی موجودگی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور اسمبلی حلقہ سنگاریڈی سے بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دونوں تلگو ریاستوں میں پھیل گئی۔ سنگاریڈی میں دامودھر نرسمہا کی قیام گاہ پر کانگریس کے قائدین اور کارکنوں کا تانتا بن گیا۔ کئی قائدین نے فون پر دامودھر راج نرسمہا سے بات چیت بھی کی۔ میڈیا کے سوال پر دامودھر راج نرسمہا نے برہمی کا بھی اظہار کیا۔ کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا۔ شام میں پدمنی ریڈی نے اپنی مکان پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی تبدیل کرنے سے قائدین اور کارکنوں میں اتنا شدید ردعمل حاصل ہونے کی انہیں توقع نہیں تھی۔ پارٹی کارکنوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنا فیصلہ تبدیل کررہی ہیں اور وہ دوبارہ کانگریس پارٹی میں واپس ہورہی ہیں۔ بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پدمنی ریڈی نے تسلیم کیا کہ وہ بی جے پی میں شامل ہوئی تھی تاہم وہ اب اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئی ہیں۔ جبکہ دامودھر راج نرسمہا اسمبلی حلقہ اندول کی انتخابی مہم میں مصروف تھے اور شیوم پیٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والے تھے تاہم اپنی بیوی کی بی جے پی میں شمولیت کی اطلاع ملنے کے بعد وہ جلسہ عام منسوخ کرکے فوری حیدرآباد پہنچ گئے۔ پدمنی ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت پر ٹی آر ایس کے ٹکٹ سے محروم ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے والے اسمبلی حلقہ اندول کے سابق رکن اسمبلی بابو موہن نے بھی خیرمقدم کیا۔ کارگذار وزیر آبپاشی پریش راؤ نے تیکھا ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ دامودھر راج نرسمہا جو منشور تیار کررہے ہیں، اس کو ان کے گھر کے ارکان خاندان بھی قبول نہیں کررہے ہیں، ان کی بیوی بطور احتجاج بی جے پی میں شامل ہوگئی ہیں۔