ٹینا دابے اور اطہر کی مجوزہ شادی: دلت مسلم اتحاد میں ایک سنگ میل

قدیم دلت مسلم اتحاد کو اس وقت فروغ نیا فروغ ملا جب گجرات کے ( اونا ) میں اعلی ذات والے ہندؤں کی جانب سے دلتوں کو زدکوب کئے جانے کے بعد دلتوں کی حمایت میں مسلمان اگے ائے اور دلت اسمیتا یاترا میں کثیرتعداد میں حصہ لیا۔دلت ۔

مسلم اتحاد کے لئے وہ ایک اہمیت کا حامل لمحہ تھا جب دلت تحریک کے نوجوان اور بااثر لیڈر جگنیش میوانی نے ’’ اونا دلت اتیاچار لٹت سمیتی ‘‘ کے شہہ نشین سے ریالی کے دوران اس بات کااعلان کیااو رکہاکہ ’’ اگر میری دو بہنیں ہوتی تو میں ایک مسلم کے گھر اور ایک والمیکی کے گھر دیتا‘‘۔ ملک کے دوبہترین دماغ ٹینا دابے اور اطہر خان کی مجوزہ شادی کی اطلاع دلت مسلم اتحاد میں ایک او رسنگ میل ثابت ہورہی ہیں۔ٹینا دانے ‘ ایک دلت لڑکی نے اس سال سیول سروس امتحانات جس کا انعقاد یو پی ایس سی نے کیا سرفہرست ائی اور اسی امتحان میں اطہر خان دوسرے نمبر پر رہا
ہندوستان میں سب سے زیادہ نذر انداز کئے جانے والے طبقات۔ دلت اورمسلمان ایک دوسرے کے قریب انے کی کوشش کررہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہرے کا سلوک رواں رکھا گیا۔ سماجی اور معاشی پیمانے پر بھی وہ خود کو دوسرے درجہ کے شہری تلاش کرتے ہیں۔ٹینا دابے اور اطہر کی شادی کے فیصلہ نے سماج کو ایک اشارہ دیا ہے کہ ان کی محبت طبقہ واری تعصب سے کہیں زیادہ اوپر ہے۔

سیول سرویس سے تعلق رکھنے والے ان دنوں نے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنے ‘ جانے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گذارنے کے بعد اتنا بڑا فیصلہ لیا ہے۔ہمیں پتہ نہیں ہے کہ ٹینا اور اطہر کس حد تک اپنے مذاہب کے احترام کرتے ہیں مگر ایک بات صاف ہے کہ دونوں ائی اے ایس ہیں اور ایک ائی اے ایس کا انتخاب تب تک نہیں ہوتا جب تک وہ تمام شعبہ حیات بشمول تہذیب اور مذہبی امور کے معلومات پر عبوری حاصل نہ کرلے۔

اپنے فیصلے سے قبل دونوں نے مذہبی کے متعلق مشاورت ضروری کی ہوگی کیونکہ مذہب اسلام میں طبقہ واریت نہیں ہے اور ٹینا جس کا مذہب سختی کے ساتھ طبقہ واریت کی حمات کرتا ہے اور اس کاتعلق بھی طبقہ واری سوسائٹی کو ماننے والوں سے ہے۔مذہب اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں اور خالق کے پاس دونوں برابر ہے نا کوئی بڑا نہ چھوٹا ۔

اسلام میں کوئی طبقہ واری بھی نہیں ہے جس کے بنیاد پر اعلی یاادنی مقررکیاجائے ۔ خالق کائنات کا زیادہ خوف رکھنے والا ہے اس کے پاس مقبول ہے۔وہیں ٹینا کا جس مذہب سے تعلق ہے ‘وہاں پیدائش کی بنیاد پر ہی انسانی علیحدگی کا احساس ہوتا ہے ۔ برہمن ‘ برہما کے سرسے پیدا ہوئے ہیں اورشتریہ سینہ سے اور ویشیاء چیزوں سے اور شودرھا( دلت) پاؤں سے جو ان سب سے نیچے ہیں

۔وجود کی غلطی کی ناکردہ سزاء بھگتنے والی ٹینا جو کئی دہوں سے سماجی استحصال کاسامنا کررہی ہے تعلیمی یافتہ ہونے کے بعد وہ اس قسم کی انسانی علیحدگی کا اسے اچھی طرح انداز ہ ہے۔ا ن کے سماج کی تنظیمیں ہندومہاسبھا نے ٹینا کی شادی کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے اس کے والد کولکھا کہ وہ اس فیصلے سے دستبرداری اختیار کریں

۔ہندومہاسبھا نے اس ضمن میں جو اقدام اٹھایا وہ قابل سزا ہے کیونکہ اس طرح کے لوگ حقیقت میں انسانیت کے لئے ایک بڑاْ خطرہ ہیں۔امید ہے کہ ٹینا اور اطہر ایک ساتھ کام کرتے ہوئے سماج میں سدھار لینے اور اپنے پیشہ میں مہارت حاصل کرتے ہوئے نفرت بھرے ماحول کو تبدیل کرنے کا کام کریں گے۔

بشکریہ : ایم ایم