مولانا آزاد : ایک عظیم مفکر و دیدہ ور 

مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت ہمہ جہت صلاحیتوں کی حامل تھی۔ وہ عالم دین بھی تھے او رمفسر قرآن بھی تھے ۔ وہ ایک بیباک صحافی بھی تھے تودوسری طرف ملت کے لئے مفکر بھی تھے ۔ اور وہ ایک ادیب تھے تو دوسری جانب بے مثال مقرر تھے اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بھی تھے ۔ مولانا آزاد میں کئی قابلیتیں اور صلاحیتیں تھی ۔

مولانا آزاد کی ذہنی تربیت بچپن سے ہی ایسے ماحول میں ہوئی تھی جہاں ادبی ذوق مزاج کا جز بن جاتا ہے ۔ مولانا نے عبدالواحد کی صحبت میں رہ کر شعر و شاعری سیکھی ۔ او ران ہی مشورہ پر مولانا آزاد نے اپنا تخلص آزاد رکھا ۔ انہوں نے فارسی اور اردو میں شاعری کی ہے۔ مولانا آزاد ایک بیباک صحافی بھی تھے۔ مولانا آزاد نے جنوری 1901ء میں المصباح نامی ایک ہفتہ واری اخبار جاری کیا ۔ ا س ہفتہ واری اخبار میں مولانا آزاد ایک کالم لکھا کرتے تھے ۔

اس کے علاوہ مولانا کئی اخبارات اور رسائل کے معاون ایڈیٹر اور اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں ۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں ان میں آزادی کی کہانی ، ترجمان القرآن مولانا کی اہم کتابوں میں شمار کئے جاتی ہے ۔ مولانا آزاد نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔مولانا آزاد کا شمار مفکرین تعلیم میں ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بلیغ افکار سے ہندوستانی تعلیمی نظام کو ایک نیا رخ ، نئی جہت عطا کیں ۔ مولانا آزاد نے بحیثیت وزیر تعلیم کئی کارہائے نمایاں انجام دیں ۔ ابتدائی تعلیم او راساتذہ کی تربیت کیلئے انہوں نے central institute of education کا قیام عمل میں لایا ۔مادری زبان میں تدریس کو رائج کیا ۔ ۱۴؍ سال کی عمر تک کے بچوں کیلئے مفت ابتدائی تعلیم فراہم کی ۔ اعلی تعلیم کی ترقی کیلئے انہوں نے یو جی سی کا قیام عمل میں لایا ۔

اس کے علاوہ مولانا آزاد نے سنگیت ناٹک اکادمی ، ساہتیہ اکادمی او رللت کلا اکادمی جیسے ثقافتی ادارے بھی قائم کئے ۔