لیبیا میں حالات بے قابو ہونے کے پیش نظر ہندوستانی امن پسندوں کو طرابلس سے باہر نکالاگیا

حالیہ دنوں میں لیبیا کے اندر مقامی فورسس کو اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے دہشت گردوں سے مقابلہ اور سفارتی عہدیداروں اور عملے کی حفاظت کے لئے امریکی دستوں کا ایک چھوٹا گروپ بھیجا گیا ہے

نئی دہلی۔ داخلی امور کی وزیر سشما سوراج نے اتوار کے روزکہاکہ طربلس میں حالات’’ اچانک خراب ‘‘ ہونے کے بعد ہندوستان نے اپنی امن قائم کرنے والے دستوں بشمول پندرہ سنٹرریزو پولیس فورسس ( سی آر پی ایف) جوانوں کو طرابلس سے ہٹالیاہے۔

سشما سوراج نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہاکہ’’ لیبیا میں حالات اچانک خراب ہوگئے ہیں۔

وہاں طرابلس میں لڑائی جاری ہے۔ تونسیا میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کو بھی پوری طرح خالی کرلیاگیا ہے ۔ تونسیا میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کے غیر معمولی کام کی میں ستائش کرتی ہوں‘‘۔

یہ اسوقت پیش آیاجب لیبیاکی ایسٹرن فوج کے کمانڈر خلیفہ ہفتار نے جمعرات کے روز اپنے دستوں کو احکامات دئے کہ وہ لیبیائی نیشنل آرمی کو طرابلس پر قبضہ کرنے کا حکم دیا جو کہ اقوام متحدہ کی حمایت والی حکومت کی راجدھانی ہے ‘ جس کے پیش نظر ملک میں سیاسی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوگیاہے۔

اتوار کے روز امریکہ نے بھی عارضی طور پر اپنے کچھ دستوں کولیبیا میں ’’زمین سطح پر سکیورٹی حالات خراب ہونے کے پیش نظر‘‘ اپنے کچھ دستوں کو ہٹانے کا اعلان کیاہے۔

حالیہ دنوں میں لیبیا کے اندر مقامی فورسس کو اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے دہشت گردوں سے مقابلہ اور سفارتی عہدیداروں اور عملے کی حفاظت کے لئے امریکی دستوں کا ایک چھوٹا گروپ بھیجا گیا ہے

۔ہفتار پر اقوام متحدہ کی حمایت والی حکومت کی طرابلس نژاد وزیراعظم فیاض سراج نے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔طویل مدت تک سیول تنازعہ کے بعدلیبیا میں اب جاکے انفرادی حکومت ہے۔

مذکورہ ایل این اے نے تبروک نژاد پارلیمنٹ کی حمایت کی ہے ‘ جس کی ایسٹ لیبیا پر حکومت ہے اور جی این اے کا کنٹرول لیبیا کے ویسٹرن حصہ میں طرابلس سے حکومت ہے۔

TOPPOPULARRECENT