پولیس سے کی گئی شکایت میں یہ الزام عائد کیاگیاہے کہ اشوک چکرا کے بجائے پرچم میں مسجد کی تصویر چسپاں کی گئی ‘ پولیس نے مزیدکہاکہ چہارشنبہ کے روز منعقد ہوئے جلوس میں دس ہزار لوگوں نے حصہ لیاتھا
لکھنو۔ جمعرات کے روز بریلی میں نکالی گئی ایک جلوس کے منتظمین کے خلاف پولیس میں شکایت کی گئی پولیس نے کہاکہ مذکورہ شکایت قومی پرچم کی توہین کرنے پر کی گئی ہے۔پولیس سے کی گئی شکایت میں یہ الزام عائد کیاگیاہے کہ اشوک چکرا کے بجائے پرچم میں مسجد کی تصویر چسپاں کی گئی ‘ پولیس نے مزیدکہاکہ چہارشنبہ کے روز منعقد ہوئے جلوس میں دس ہزار لوگوں نے حصہ لیاتھا۔
پیلی بھیت کے ہندو یوا واہانی ضلع صدر منیش چوہان نے مذکورہ شکایت درج کرائی ہے ‘ جنپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موقع پر سکیورٹی کے مقصد سے تعینات پولیس والوں کے خلاف کاروائی بھی کی جائے جنھوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
پولیس نے کہاکہ کیس قومی احتیاط برائے قومی اعزاز کی توہین ایکٹ کے تحت پوران پور پولیس اسٹیشن میں منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے جنھوں نے جلوس غوثیہ منعقد کیاتھا۔
جمعرات کے روزکے ہندو یوا واہانی کے لیڈرس نے پیلی بھیت کے پولیس سپریڈنٹ بالیندو بھوشن سنگھ سے ملاقات کی اور جلوس میں شرکت کرنے والے کچھ لوگوں کے خلاف الزام عائد کیا کہ وہ قومی پرچم ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے جس پر مسجد کی تصویر پرنٹ کی گئی تھی جو اشوک چکر کے بجائے لگائی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ’’ جمعرات کے روز ایک مقامی شخص سے مجھے اس بات کی جانکاری ملی ۔
مجھے اس نے مسجد کی امیج پر مشتمل پرچم کی تصوئیر روانہ کی ۔ بعدازاں میں نے اس پی سے ملاقات کی اور انہیں واقعہ کے متعلق جانکاری دی۔ میں نے انہیں ایک درخواست دی اور مطالبہ کیا کہ جلوس غوثیہ کے منتظمین او راراکین کے خلاف کاروائی کی جائے۔
میں نے ان سے یہ بھی درخواست کی کہ پولیس کے رول کی بھی جانچ کی جائے ۔ میں نے پرچم ظاہر کرنے والے فوٹو گراف پیش نہیں کی‘‘۔
جمعرات کی شام کو ایس پی کی ہدایت پر ایف ائی آر درج کی گئی۔پوران پور پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن افیسر کیشو کمار تیواری نے کہاکہ’’ جلوس غوثیہ کے منتظمین اور ممبران کے خلاف ایک ایف ائی درج کیاگیا ہے۔
شکایت کرنے والے نے کوئی تصوئیر او رویڈیو شواہد کے طور پر پیش نہیں کی ہے۔ ہم نے تحقیقات کی شروعات کردی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ ’’ یہ سچ ہے کہ پولیس ٹیم جلوس کے ساتھ چل رہی تھی۔
مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ جلوس میں شامل ہر شخص کے ہاتھ کے جھنڈے کی جانچ کی جائے۔ہم جلوس کے ویڈیو اور فوٹوز جمع کریں گے تاکہ خاطیوں کو پکڑا جاسکے‘‘۔
جب بریلی ریج کے انسپکٹر جنرل دھرو کمار ٹھاکر سے ربط کیاگیاتو انہوں نے کہاکہ ’’ لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر درج ایف ائی ار کے متعلق جلوس کا ایک ویڈیو وہاں پر ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نظم ونسق کی برقراری میں مصروف پولیس ٹیم جو ساتھ چل رہی تھی وہ پرچم دیکھنے میں ناکام ہوئے ہونگے‘‘۔