قدیم دواخانہ کا انہدام ، عوام پریشان ، عہدیداران بے بس ، منی حج ہاوز تعمیر کرنے رکن اسمبلی کا نیا شوشہ
نظام آباد :25؍ جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )ریاستی حکومت کی جانب سے یونانی اور آیورویدک میڈیسن کو محکمہ آیوش کے ذریعہ فروغ دینے کیلئے اقدامات کرتے ہوئے نظام آباد کے دھاروگلی میں واقع قدیم یونانی دواخانہ کی تعمیر کیلئے70 لاکھ روپئے کی منظوری عمل میں لاتے ہوئے تعمیری کاموں کا آغاز کیا گیا تھا ۔ لیکن رکن اسمبلی نظام آباد ( اربن ) بیگالہ گنیش گپتا کی مداخلت پر یونانی دواخانہ کے کاموں کو روک دیا گیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے اس بات کی افواہیں سرگرم تھی کہ یونانی دواخانہ کے کاموں کو روک دیا گیا جس پر نمائندہ سیاست نے تفصیلی طور پر دریافت کرنے پر ایگزیکٹیو انجینئر ٹی ایس ایم ایس آئی ڈی سی ڈیویژن نظام آباد کی جاری کردہ تحریر ہاتھ لگنے پر افواہیں سچ ثابت ہوئیں ۔ واضح رہے کہ نظام آباد سرکاری یونانی دواخانہ نظام دور حکومت میں 1345 فصلی (95 سال قبل) میں تعمیر شدہ ہے اور دواخانہ 5 بستروں پر مشتمل ہے جس کو حال ہی میں اپ گریڈ کرتے ہوئے 10 بستروں میں تبدیل کیا گیا ، بوسیدہ عمارت ہونے کی وجہ سے حکومت نے 70 لاکھ روپئے منظور کر کے ٹنڈرس بھی طلب کئے تھے جس پر کے گال ریڈی نامی کنٹراکٹر نے اس کا ٹنڈر حاصل کیا اور قدیم عمارت کو مسمار کر کے کاموں کا آغاز کیا تھا۔ نظام کے دور حکومت میں قائم شدہ دواخانہ موجودہ نظام آباد سرکاری دواخانہ سے قبل قائم شدہ دواخانہ ہے اور آج بھی ہر روز تقریباً80 تا 100 مریض دواخانہ میں علاج کیلئے رجوع ہوتے ہیں لیکن گذشتہ کئی برسوں سے یونانی ڈاکٹرس کی جائیداد مخلوعہ ہے ۔ ایک فارمیسٹ ، اسٹاف نرس اور ہیلت اسسٹنٹ ، دو میل نرس کی جائیداد یں اور نظام کے دور حکومت میں دواخانہ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس کوارٹر بھی تعمیر کیا گیا تھا اور یہ دواخانہ آج سے چند سال قبل مریضوںسے بھرا رہتا تھا اور ڈاکٹرس بھی کوارٹر میں قیام پذیر رہتے تھے لیکن یونانی اور آیوروید ک ادویات کو جدیدادویات پر ترجیح حاصل ہوگئی جس کی وجہ سے مریضوں کی آمد میں کمی واقع ہوگئی اور چند سال سے قدیم علاج پر ہی بھروسہ کرتے ہوئے عوام اس طرف راغب ہونا شروع ہوئی تو حکومت بھی محکمہ آیوش کے ذریعہ یونانی اور آیوروید ک کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے جدید طرزپر دواخانہ کی تعمیر کرنا شروع کیا تو رکن اسمبلی کی مداخلت پر موجودہ اسٹاف خامو ش تماشائی ہے اور اس بات کی اطلاع ملنے پر نمائندہ سیاست نے اس بارے میں تحقیق کرنا شروع کیا تو یہ بات حقیقت بن کر سامنے آئی اور رکن اسمبلی مسٹر گنیش گپتا نے بھی آج منعقدہ حج کیمپ میں منی حج ہائوز کی تعمیر کیلئے دواخانہ کی جگہ کا انتخاب کرنے کا اعلان کیا ۔ تقریباً95 سال سے یہاں پر دواخانہ کامیاب طور پر چل رہا ہے اور مریضوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے مستقل ڈاکٹر کو مقرر کیا گیا تو مریضوں کی تعداد میں اور بھی اضافہ ہونے کے امکانات ہیں جبکہ نظام آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے امیدوار یونانی ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور یونانی علاج کو آہستہ آہستہ فروغ حاصل ہورہا ہے اس کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے کے بجائے قیمتی اراضی پر حج ہائوز کی تعمیر کے نام پر دواخانہ کو بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ شہر نظام آباد میں حج ہائوز کی تعمیر کیلئے اور بھی کئی مقامات ہیں اور سرکاری اراضی بھی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوسکتی ہے لیکن یونانی دواخانہ کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا اس پر عوام کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے اور اسے فروغ دینے کی بھی خواہش کی جارہی ہے ۔