شادی میں کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے پر دلت شخص کا قتل

سرکل افیسر اتم سنگھ جو جیتندر داس کے مبینہ قتل کی تحقیقات کررہے ہیں نے کہاکہ ایس سی‘ ایس ٹی مظالم ایکٹ اورائی پی سی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے بعد انہوں نے تحقیقات شروع کی ہے۔

دہرادؤن۔اتراکھنڈ پولیس نے 21سالہ دلت شخص کے گھر والو ں کو کاروائی کا بھروسہ دلایا ہے‘ جس کا کہنا ہے کہ اعلی ذات کے لوگوں کے ہاتھوں سے26اپریل کے روز تہری گراحوال ضلع میں شادی کے موقع پر کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے سبب مبینہ پیٹائی کے نو روز بعد اس کی موت ہوگئی ہے۔

سرکل افیسر اتم سنگھ جو جیتندر داس کے مبینہ قتل کی تحقیقات کررہے ہیں نے کہاکہ ایس سی‘ ایس ٹی مظالم ایکٹ اورائی پی سی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کئے جانے کے بعد انہوں نے تحقیقات شروع کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”تحقیقات کے دوران‘ ہم نے چشم دیدوں کو تلاش کیامگر کوئی آگے نہیں آیا۔اہم عینی شاہد ایسا لگ رہا ہے متوفی خود ہی تھا۔

اتوار کے روز اس کی موت کے بعد‘ ملزمین پر اب قتل کا مقدمہ درج کردیاجائے گا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد مزیدکاروائی کی جائے گی“۔

اتراکھنڈ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(لاء اینڈ ارڈر) اشوک کمار نے کہاکہ ملزمین کو بخشا نہیں جائے گا اور سخت کاروائی کی جائے گی۔جیتندر داس کی گھر والوں نے کہاکہ وہ27اپریل سے دہرادؤن کے اسپتال میں زیر علاج تھا‘ جہاں پر اتوار کے روز وہ زخموں سے جانبرنہ ہوسکا‘۔

داس جو پیشہ سے کارپینٹر تھا اپنے گھر والوں کے لئے روٹی کمانے والے واحد شخص تھا۔

جیتندر داس کے چچا ایلم داس نے کہاکہ انہیں اگلے روز واقعہ کی جانکاری ملی جب اس داس کی ماں نے اس کو نیم بیہوشی کے عالم میں پایا اور قریب کے اسپتال لے کردوڑی”ہمارے دور کے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لئے ہم تمام لوگ گئے تھے۔

اس وقت ہم شادی کی تقریب میں تھے او رداس طعام کے لئے گیاتھا۔

طعام کے بعد ہم الگ الگ گھر واپس لوٹ گئے“۔انہوں نے کہاکہ جیتند ر داس کے دوست جنھوں نے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی اس سے کہا ہے کہ داس کے ساتھ شادی خانہ میں مارپیٹ او رگھر لوٹتے وقت اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔

”اس نے ہم سے بتایاکہ وہ اعلی ذات وال ملزم شخص کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر اپنا کھانا کھارہاتھا۔

کرسی پر اس کو بیٹھا دیکھ وہ برہم ہوگیا ہے اور کرسی پر لات مار کر داس کو نیچے گرانے قبل پلیٹ کو لات ماری‘ اور اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے حوالے گالی گلوج شروع کردی۔

ایلم نے کہاکہ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا اور داس کو تعقب کرکے بھی پیٹا گیا“

Leave a Comment