جموں میں گائے اسمگلنگ کا شبہ ،ایک شخص کی پراسرار موت کی تحقیقات کا حکم

متعدد ملازمین پولیس کیخلاف غفلت و لاپرواہی کا مقدمہ ، ایس ایچ او کا تبادلہ ، دو اہلکار معطل ، ایک ہوم گارڈ کی برطرفی کی سفارش

جموں ۔24 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کے ضلع کشتوار میں گزشتہ ہفتہ گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں پکڑے گئے ایک شخص کی پولیس حراست میں پُراسرار موت کی ریاستی انتظامیہ نے مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔ موضع بھارت کے رکن جاوید احمد ملک کو چھتروپولیس اسٹیشن کے افسروں نے جمعہ کو گرفتار کیا تھا اور وہ اُسی روز فوت ہوگیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جاوید پولیس تحویل سے فرا ہونے کی کوشش میں ایک گہرے کھڈ میں گر پڑا تھاجس کے نتیجہ میں موت واقع ہوئی ہے لیکن اُس کے خاندان نے الزام عائد کیا کہ اُس کو زدوکوب میں ہلاک کیا گیا ۔ عہدیداروں نے کہا ہے کہ پولیس عہدیداروں کے خلاف غفلت و لاپرواہی کا ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے محکمہ جاتی تحقیقات کا آغاز کیاگیا ہے۔ چھترو پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کا تبادلہ کردیا گیاہے۔ دیگر دو اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ ایک والینٹئر ہوم گارڈ ـ کی خدمات سے برطرفی کی سفارش کی گئی ہے ۔ ملک کے خاندان کے مطابق متوفی اپنے دو رشتہ داروں کو رہا کروانے کیلئے ازخود پولیس اسٹیشن گیا تھا ۔ اس کے رشہ دار گائے کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کئے گئے تھے ۔ جاوید احمد ملک کی ہلاکت پر ڈوڈا اور چھترو میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے کشتوار کے ضلع ترقیاتی کمشنر انگریز سنگھ رانا نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کشتوار امام دین کی طرف سے تحقیقات کی جائے گی جنھیں ایک مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ‘‘ ۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ابرار چودھری نے بھی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہیڈکوارٹر میں نہار رنجن کو اس واقعہ کی جامع محکمہ جاتی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چھتروا کے ایس ایچ او انسپکٹر محمد بشیر کو ضلع پولیس لائینس روانہ کیا گیاہے جوسب انسپکٹر سنجیوکمار کی جگہ لیں گے ۔ پولیس اسٹیشن کے منشی جعفر خاں اور سلکشن گریڈ کانسٹیبل محمد امین کو معطل کردیا گیا ہے۔ چودھری نے والینٹر ہوم گارڈ محمد شریف کی خدمات سے برطرفی کی سفارش کی ہے ۔ ایس ایس پی کی ہدایت پر مختلف پولیس عہدیداروں کیخلاف غفلت و لاپرواہی کا مقدمہ درج کرلیا گیاہے ۔

کشمیر میں ایک عسکریت پسند کی خودسپردگی
سرینگر ۔24 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں ایک عسکریت پسند نے جس کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے سکیورٹی فورسس کے روبرو خود سپرد کردیا اور دوبارہ اپنے خاندان میں شامل ہوگیا ۔کشمیر زون پولیس نے ٹوئیٹر پر کہا کہ ’’مقامی برادری کی مدد سے مزید ایک (عسکریت پسند) نے تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے دوبارہ پنے خاندان میں واپس چلاگیا‘‘ ۔ تاہم خود سپرد عسکریت پسند کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اس کی شناخت کو رازداری میں رکھا گیا ہے۔ کشمیر میں گزشتہ سال پولیس کی طرف سے خودسپردگی قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایک درجن سے زائدعسکریت پسند خودسپردگی اختیار کرچکے ہیں۔