l لوک سبھا حلقہ سکندرآباد میں سب سے کم 39.20 فیصد ووٹنگ
l حیدرآباد نشست کیلئے بھی صرف 39.49 فیصد رائے دہی
l ظہیرآباد اور میدک میں سب سے زیادہ 68.70% پولنگ
l بعض جگہ انتخابی دھاندلیوں اور ای وی ایمس میں خرابی کی شکایات
l چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ رجت کمار کا بیان
حیدرآباد۔11اپریل(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے 17پارلیمانی حلقوں میں آج مکمل پر امن رائے دہی منعقد ہوئی اور ریاست کے کسی بھی گوشہ سے کوئی ہنگامہ آرائی یا پر تشدد کارروائی کی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔ ریاست تلنگانہ کے 17حلقہ جات پارلیمان میں مجموعی اعتبار سے شام 5بجے تک 61 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ مسٹر رجت کمار نے ریاست میں رائے دہی کے اختتام کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ کی سیاسی جماعتوں کے قائدین‘ انتخابی عملہ ‘ ذرائع ابلاغ اداروں اور محکمہ پولیس و دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان تمام کے تعاو ن کے بغیر پر امن رائے دہی کے انعقاد کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے 17حلقہ جات لوک سبھا میں سب سے کم رائے دہی حلقہ پارلیمان سکندرآباد میں ریکارڈ کی گئی جہاں شام 5بجے تک بھی صرف 30.20 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی ۔ چیف الکٹورل آفیسر نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں سب سے زیادہ امیدوار حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد سے رہے ہیں اور الیکشن کمیشن نے پہلی مرتبہ اتنے امیدواروں کوالکٹرانک ووٹنگ مشین پر انتخابات کو یقینی بنایا ہے اسی لئے یہ گنیس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے اور اس بات کی کوشش کی جائے گی۔ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے 17پارلیمانی حلقوں میں مجموعی اعتبار سے ریکارڈ کئے گئے 61فیصد کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ 2014 عام انتخابات میں رائے دہی کا تناسب 67 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن اس وقت ریاستی اسمبلی اور عام انتخابات ساتھ میں منعقد کئے گئے تھے ۔ اسی لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں کے جوش و خروش میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ چیف الکٹورل آفیسرتلنگانہ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ ظہیر آباد میں 68.70 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ میدک میں 68.7فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ‘ حلقہ پارلیمنٹ ملکا جگری میں 42.75 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ سکندرآباد میں سب سے کم 39.20 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے اسی طرح حلقہ اسمبلی حیدرآباد میں بھی صرف 39.49فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ حلقہ پارلیمنٹ چیوڑلہ میں 53.08فیصد رائے دہی ریکارڈکی گئی ہے ‘ محبوب نگر میں 65 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ ناگرکرنول میں رائے دہی کا فیصد 57.21 رہا اور نلگنڈہ میں 66.11 رائے دہی کا فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ بھونگیر میں 68.25فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ ورنگل میں رائے دہی کا فیصد 59.7 رہا۔ کھمم میں 67.92 اور کریم نگر میں 68فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ اسی طرح ضلع نظام آباد میں رائے دہی کا فیصد 54.20رہا اور عادل آباد میں 66.76 رائے دہی ریکارڈ کی گئی اور حلقہ پارلیمنٹ پدا پلی میں 59.24 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔مسٹر رجت کمار نے کہا کہ دیئے گئے اعداد و شمار 11اپریل کو رائے دہی کے دن شام 5بجے تک کے ہیں اور ان میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے تمام 17 حلقہ جات پارلیمان میں رائے دہی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور کسی بھی علاقہ سے گڑبڑ کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔انہوں نے بتایا کہ عام انتخابات کے پہلے مرحلہ میں تلنگانہ کی 17پارلیمانی نشستوں پر رائے دہی کا عمل کروانا تھا جو کہ ریاستی الیکشن کمیشن کے لئے انتہائی چیانج والی بات رہی لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے ممکنہ اقدامات کرتے ہوئے مجموعی اعتبار سے رائے دہی کو یقینی بنایا ۔ ریاست کے 17حلقہ جات پارلیمان میں بعض مقاما ت سے انتخابی دھاندلیو ںکی شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس سلسلہ میں امیدوارو ںنے شکایات کی ہیں۔ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ ریاست بھر میں جہاں تقریباً 35ہزار مراکز رائے دہی قائم کئے گئے تھے ان میں صرف 318مقامات سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں تکنیکی خرابی کی شکایات موصول ہوئی جنہیں فوری تبدیل کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ رات دیر گئے تک انتخابی عملہ کی واپسی کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اس بات سے واقف کروا دیا جائے گاکہ انتخابی عملہ ذمہ داری ادا کرنے کے بعد واپس پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 17پارلیمانی حلقوں میں ایک دن میں رائے دہی منعقد کرنے کے لئے 3لاکھ افراد پر مشتمل عملہ سرگرم عمل رہا۔ مسٹر رجت کمار نے کہا کہ رائے دہی کے عمل کے بعد بھی انتخابات کے نتائج تک انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ رہتا ہے لیکن بعض ضروری امور کے لئے رعایت حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ رائے دہی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رائے دہی کے دن پیڈ نیوز کے 200سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ اب تک 53پیڈ نیوز کے مقدمات کی تصدیق ہوچکی ہے اس سلسلہ میں جلد نوٹس کی اجرائی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ ایم سی سی کو رائے دہی سے ایک دن پہلے اور رائے دہی کے دن جملہ 557 شکایات موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ مسٹر رجت کمار نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد سے رائے دہی تک کی مدت میں جملہ 320کروڑ مالیتی نقدی ،‘ منشیات‘ شراب‘ قیمتی دھاتوں کے علاوہ دیگر اشیاء ضبط کی گئی ہیں جو کہ 2014عام انتخابات کے اعتبار سے جائزہ لئے جانے پر 3گنا زائد پائے گئے ہیں۔