بی جے پی حکومت کے دوران راجستھان میں ترتیب دئے گئے نصابی کتابوں میں تبدیلی

پچھلے پانچ سالوں سے کانگریس اس بات کا الزام لگارہی ہے کہ نصابی کتابوں میںآر ایس ایس کے نظریات کو فروغ دینے کا کام کیاگیا ہے۔
جئے پور۔راجستھان کی کانگریس حکومت نے کہاکہ وہ تعلیمی شعبہ میں بی جے پی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات میں تبدیلی لائے گی جس میں نصابی کتابوں کا مواد ‘ اور تقسیم کئے گئے یونیفارم او رسیکلوں کا رنگ کی تبدیلی بھی شامل ہے۔

انڈین ایکسپر یس سے بات کرت ہوئے وزیر تعلیم گوئند سنگھ دوتا سارا نے کہاکہ ’’ پچھلے پانچ سالوں میںآر ایس ایس کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کے مطابق فیصلے لئے گئے تھے۔

ہم نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام چیزوں میں تبدیلی لائی جائے چاہئے وہ اسکول کی تنظیم جدید ‘ یا پھر نصابی کتابوں اور یونیفارم میں تبدیلی ہو‘ تمام چیزیں کو ازسر نو بدل دیاجائے‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’ سیاسی منشاء‘‘ سے جو بھی فیصلے لئے گئے ان تمام میں تبدیلی لائی جائے گی

دوتاسارا نے کہاکہ ’’ راجستھان کے محکمہ تعلیم کو اب آر ایس ایس کی لیباریٹری بننے نہیں دیاجائے گا۔ ہم تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں اور نصابی کتاب میں لائی گئی تبدیلوں کا ازسر نو جائزہ لینے اور اس کو بدلنے کے لئے ایک علیحدہ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔

گاندھی جی کو ایک نوٹ تک محددو کردیا اور یہ ( بی جے پی) کے لوگ بھول گئے ہیں کہ نہرو ‘ اندرا گاندھی ‘ راجیو گاندھی اور دیگر شخصیتوں کا کیاتعاون رہا ہے‘‘۔

پچھلے پانچ سالوں سے کانگریس اس بات کا الزام لگارہی ہے کہ نصابی کتابوں میںآر ایس ایس کے نظریات کو فروغ دینے کا کام کیاگیا ہے۔

پارٹی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ سابق کی بی جے پی حکومت کی جانب سے زعفرانیت کو فروغ دینے کے مقصد سے زعفرانی رنگ کی سیکلیں تقسیم کی گئیں تھیں’ یونیفارم کی سربراہی میں ان کی یہی منشا تھی‘ جو سنگھ کے یونیفارم سے کافی مشابہہ تھا۔

کانگریس کے اپوزیشن میں رہنے کے دوران ایوان اسمبلی میں کانگریس کے چیف وہپ رہے دوساتارا نے کہاکہ ’’ زعفرانیت کا معاملہ میڈیا نے اٹھایا تھا جس کو ہم اسمبلی تک لے گئے۔ ہم وہی اقدامات اٹھائیں گے جو عوام کی فلاح وبہود کے لئے ہوں گے‘‘۔

ہفتہ کے روز اپنے پہلے کابینہ اجلاس میں راجستھان حکومت نے اس بات کا بھی فیصلہ لیا ہے کہ حکومت کے تمام لیٹر پیٹس پر سے دین دیا ل اپودھیائے کی تصویر پر مشتمل لوگوں ہٹادیاجائے گااس کے بجائے قومی ایمبلم لگایاجائے گا۔

Leave a Comment