بنگالی میں تحریر دعوۃ اسلامی کے پوسٹر میں لکھا ہے’کامنگ سون‘

نئی دہلی۔ اس بات کی طرف اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ دعوۃ اسلامی بنگلہ دیش یا پھر مغربی بنگال میں حملے کی تیاری کررہا ہے‘ ایک موافق ائی ایس ٹیلی گرام چیانل نے بنگالی میں تحریرایک پوسٹر جاری کیاجس پر لکھا تھا کہ ’کامنگ سون‘ یعنی بہت جلد آرہے ہیں۔

خفیہ اداروں کے ذریعہ نے بھی بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس طرح کا ایک پوسٹر پھیلا گیا ہے اور ہم اس کی جانچ کررہے ہیں۔

مذکورہ پوسٹر جمعرات کی رات کو جاری کیاگیا ہے جس پر لکھا ہے”شیگروائی اشچھے“ انشاء اللہ۔ یعنی بہت جلد آرہے ہیں۔

اور اس پر المورسالات نامی گروپ کا لوگو بھی تحریر ہے۔خفیہ ادارے اس پوسٹر پر سنجیدگی کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ ائی ایس کی طرف سے جاری کیاگیا ہے جس نے حال ہی میں سری لنکا کے اندر ہیجان انگیز سلسلہ وار بم دھماکے مقامی تنظیم توجید جماعت کی مدد سے انجام دئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں پہلے سے ہی دعوۃ اسلامی کی جڑیں کافی مضبوھ ہیں کیونکہ مقامی دہشت گرد تنظیم جماعت المجاہدین(نیو جے ایم بی) تنظیم کے ساتھ اس کے تار جڑے ہیں جو ائی ایس ائی ایس سنٹرل سے ملحقہ بتائی جاتی ہے۔

تاہم جے ایم بی کے کارکن کلکتہ اور مغربی بنگال کے مختلف حصوں اور پڑوسی ریاستوں میں اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے بھرتی میں بھی کافی مشہور ہے۔

اسی سال فبروری میں جے ایم بی کا ایک کارن عارف الاسلام کو کلکتہ کے بابو گھاٹ سے گرفتار کیاگیاتھا۔ بودھ گیا میں 2018کے دوران پیش ائے بم دھماکوں میں شامل ملزمین میں سے مبینہ طور پر وہ ایک تھا۔

ایک افیسر نے یاد کرتے ہوئے کہاکہ قبل ازیں آسام میں جے ایم بی نے دھماکوں کا ایک منصوبہ تیار کیاتھا اور اسی کے ساتھ مذکورہ کارکنوں نے لور آسام ضلع کے چیرانگ علاقے کو ٹریننگ کیمپ کی طرح استعمال کرنے کا بھی انکشاف کیاتھا

پچھلے جولائی کو برداوا اسٹیشن پر ایک ٹرین سے مغربی بنگال سی ائی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ائی ایس ائی ایس‘ جے ایم بی کے دہشت گرد محمد مصیر الدین عرف موسی سے امریکہ ایجنسی ایف بی ائی نے بھی تفتیش کی تھی۔

مصیر الدین جو طویل عرصہ تک تاملناڈو کے تریپور ہ ضلع میں روپوش تھا نے خود اس بات کا انکشاف کیاتھا کہ وہ 2014میں پیش ائے کاگرا گڑ جڑواں بم دھماکوں میں گرفتار جے ایم بی کے اہم کارکن امجد شیخ کا قریبی رہا ہے۔

تین سال قبل مقامی جے ایم بی جے سلیپر سل نے مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں پوسٹر لگاکر نوجوان سے استفسار کیاتھا کہ وہ دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیا ر کریں

Leave a Comment