اے ٹی ایمس غیرکارکرد، طلب میں اچانک غیر معمولی اضافہ، صورتحال بہتر بنانے حکومت کی مساعی
۔17 لاکھ کروڑ روپئے زیرگشت
نئی دہلی 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آندھراپردیش، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، بہار، کرناٹک اور چند دوسری ریاستوں کے مختلف علاقوں میں کرنسی کی قلت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نقدی کی قلت کے سبب ان علاقوں میں اکثر اے ٹی ایمس بھی عملاً ناکارہ ہوگئے ہیں۔ تاہم حکومت نے اس صورتحال کو گزشتہ تین سال کے دوران نقدی کی طلب میں ہونے والے غیرمعمولی اضافہ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ بعض ریاستوں میں عارضی قلت سے فی الفور نمٹ لیا گیا اور اب وہاں کافی کرنسی زیرگشت ہے۔ جیٹلی جو گردہ کے عارضہ کے سبب 2 اپریل سے اپنے دفتر سے دور تھے، آج کہاکہ اُنھوں نے ملک میں کرنسی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ وزیر فینانس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’مجموعی طور پر کافی سے زائد کرنسی زیرگشت ہے اور بینکوں میں بھی دستیاب ہے۔ بعض مقامات پر نقدی کی طلب میں اچانک غیرمعمولی طور پر بھاری اضافے کے سبب عارضی قلت پیدا ہوگئی تھی جس سے فوری نمٹ لیا گیا ہے‘‘۔ کرنسی کی خاطر خواہ سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور دیگر بینکوں کے ساتھ حکومت تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔ وزارت فینانس کی طرف سے جاری ایک بیان میں ملک کے چند حصوں میں نقدی کی قلت اور اے ٹی ایمس کے غیر کارکرد ہوجانے کی اطلاعات کی توثیق کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’ملک میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کرنسی کی طلب میں برخلاف معمولی اچانک بھاری اضافہ ہوا ہے‘‘۔ وزارت فینانس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اپریل کے ابتدائی 13 دن کے دوران نقدی کی سربراہی 45000 کروڑ روپئے تک بڑھادی گئی تھی جس کے باوجود آندھراپردیش، تلنگانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور دیگر مقامات پر کرنسی کی طلب میں بھاری اضٓفہ دیکھا گیا۔ مملکتی وزیر فینانس شیو پرتاپ شکلا نے کہاکہ بعض ریاستوں میں کرنسی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹننے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور آئندہ دو تین دن میں یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’حکومت نے ریاست واری اساس پر کمیٹی تشکیل دی ہے اور آر بی آئی نے بھی ایک سے دوسری ریاست کو کرنسی کی منتقلی کے لئے اپنی کمیٹی تشکیل دی ہے کیوں کہ رقومات کی منتقلی کے لئے آپ کو آر بی آئی سے اجازت درکار ہوتی ہے‘‘۔ یہ (نقدی کی قلت کا مسئلہ) 2-3 دن میں حل کرلیا جائے گا‘‘۔ آر بی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کرنسی کی گشت ماقبل نوٹ بندی کی سطح یعنی 17 لاکھ کروڑ روپئے تک پہونچ گئی ہے۔ وزارت فینانس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس غیر متوقع اور برخلاف معمول طلب سے نمٹنے کے لئے حکومت ہند ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔ ہمارے پاس کرنسی نوٹوں کے خاطر خواہ ذخائر ہیں جنھیں اس غیرمعمولی طلب سے نمٹنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔