ایودھیا کے متنازعہ مقام پر گوتم بدھ کا ہی مجسمہ لگایاجائے

بی جے پی کے بہرائچ ایم پی ساوتری بائی پھولے نے کہاکہ کھدائی کے دوران وہاں بدھ کے ہی نشانات پائے گئے ہیں‘ نام تبدیل کرنے پر بھی بی جے پی ایم پی ناراض‘ سوال کیا ‘ کیاہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں دلت‘ مسلم اور پسماندہ سمیت سبھی کا تعاون نہیں تھا؟ اگر تھاتو پھر ان بزرگوں کے نام سے جو مقام بنائے گئے ہیں ‘ اس کو مٹاکر ملک کی تاریخ مٹانے کاکام کیوں کیاجارہا ہے؟۔

برائچ۔ الیکشن نزدیک آتے ہی مذہبی موضوعات کو اٹھاکر عوام کی توجہہ ہٹانے کاکام کیاجاتا ہے۔ اسی کے تحت شہروں کے نام بھی تبدیل ہورہے ہیں‘ رام مندر معاملہ پر قانون بنانے کا بھی مطالبہ ہورہا ہے۔

اس کی آڑ میں برسراقتدار پارٹی او رشدت پسند لیڈرو ں کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ بنانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ لیکن سبھی بیانوں کے درمیان بی جے پی کی ہی بہرائچ کی رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے کی رائے بالکل الگ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد او ررام جنم بھومی کے متنازعہ مقام پر بھگوان گوتم بدھ کا مجسمہ نصب کیاجائے کیونکہ کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی کھدائی میں گوتم بدھ کے نشانات ملے ہیں۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ عدالت عظمی کو مذکورہ نشانات کو ثبوت مانتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے۔

ہمارا ملک ہندوستان کے ائین کے تحت چلتا ہے ۔ چاہئے انتظامیہ ہو یا محکمہ انصاف یا پھر اسمبلی ہوسبھی کو ائین کے تحت ہی چلنا چاہئے او رہندوستان میں رہنا ہے تو ائین کو مان کر چلنا ہوگا۔

مذکورہ خیالات کا اظہار بہرائچ سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے نے نمائندہ انقلاب سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ائین کے تحت کسی کو کسی کی عقیدت وجذبات کوٹھیس پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ مغل سرائے‘ الہ آباد ‘ فیض آباد کا نام بدل دیاگیا۔

اب علی گڑھ‘ تاج محل‘ لکھنو کا نام بدلنے کی بات کہی جارہی ہے ۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیاہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں دلت مسلم اور پسماندہ سمیت سبھی کاتعاون نہیں تھا؟

اگر تھاتو پھر ان کے بزرگوں کے نام سے جو مقام بنائے گئے تھے جس کو ملک ہی نہیں پوری دنیاجانتی ہے اس کو مٹاکر ملک کی تاریخ کو مٹانے کاکیوں کام کیاجارہا ہے؟ مذکورہ تاریخ کو مٹاکر اپنی تاریخ قائم کرنے والے ائین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ ہندوستان میں اس طرح کی پالیسی نہیں چلے گی او رملک میں رہنا تو ائین کے دائرے میں رہنا ہوگا۔ یادرہے کہ ہندوستان مذہب او رمندر کے تحت نہیں ائین کے تحت چل رہا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ نام بدلنے والی نئی سیاست چلنے والی نہیں ہے۔

انہو ں نے مزیدکہاکہ جب الیکشن آتا ہے تو یہ لوگ کبھی ہندو مسلم کبھی ایودھیا ‘ مند ر او رنام بدلنے کی سیاست کرکے لوگوں سے ووٹ لینے کی سازش کررہے ہیں۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں

Leave a Comment