ایم ایچ اے نے ریاستوں سے کہاکہ وہ کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کاکام کریں‘ سی آر پی ایف بھی اس کام پر مامور

مذکورہ سی آر پی ایف جمعرات کے روز جس کا وادی میں ایک روز کے اندر سب سے بڑا نقصان ہوا ‘ ٹوئٹرکے ذریعہ چوبیس گھنٹے پر مشتمل ایک ہلپ لائن نمبر کا بھی اعلان کیاہے جو وادی کے اندر اور باہر کشمیری طلبہ اور عام لوگوں کی حفاظت کے لئے کام کرے گا۔

نئی دہلی۔ جمعرات کے روز وادی کے پلواماں میں پیش ائے واقعہ کے بعد ملک کے مختلف مقامات پر رہنے والے کشمیریوں کی زندگی کے تحفظ کی تشویش بڑھ گئی ہے۔

مذکورہ دہشت گرد حملے کے خلاف ردعمل کے طور پر اس طرح کے کچھ واقعات کشمیری لوگوں کے ساتھ رونما ہونے کے بعد وزرات داخلہ نے ریاستوں کو ایک اڈوئزری جاری کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ ان کے علاقوں میں رہنے والے جموں او رکشمیرکے لوگوں کی سکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنانے کاکام کریں۔

مذکورہ سی آر پی ایف جمعرات کے روز جس کا وادی میں ایک روز کے اندر سب سے بڑا نقصان ہوا ‘ نے اپنے پیشہ سے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوئٹرکے ذریعہ چوبیس گھنٹے پر مشتمل ایک ہلپ لائن نمبر کا بھی اعلان کیاہے جو وادی کے اندر اور باہر کشمیری طلبہ اور عام لوگوں کی حفاظت کے لئے کام کرے گا

https://twitter.com/CRPFmadadgaar/status/1096780910668726278

 

۔پلواماں میں دہشت گرد حملے کے بعد مبینہ طور پر کشمیری طلبہ او رلوگوں کو دھمکیوں ملنے کے متعلق ان کی موثر انداز میں حفاظت کے متعلق مرکزی ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ کی جانب سے کل جماعتی قائدین کو بھروسہ دلائے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد مذکورہ ہوم منسٹری اڈوائزی منظرعام پر ائی ہے۔

ہوم منسٹر ی کے ایک افیسر نے کہاکہ اس طرح خبریں سامنے ائیں کہ جموں او رکشمیر کے کچھ طلبہ اور دیگر لوگوں کو دھمکیوں اور بدسلوکی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔

اس افیسر نے کہاکہ ’’ لہذا ہوم منسٹری نے آج تمام ریاستوں/یونین ٹریٹریز کو ان کی تحفظ او رسکیورٹی کے لئے ضروری اقدامات پر مشتمل ایک اڈوائزری جاری کی ہے‘‘۔

اتراکھنڈ کے دہرادون میں زیر تعلیم کچھ طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور حملہ کیاگیا جس کے بعد ان کے مکان مالک نے اپنی جائیداد پر حملے کے ڈرسے انہیں مکان خالی کرنے پر بھی زوردیا ہے۔

جموں اور کشمیر کی پولیس نے کہاکہ کوئی بھی جو ریاست کا ہے اور وہ باہر رہ رہا ہے مدد کے لئے ان سے ربط قائم کرسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ سوشیل میڈیا پر بھی کئی لوگ ہلپ لائن نمبر پوسٹ کررہے ہیں

Leave a Comment