انیل امبانی کا ریلائنس گروپ 1.21 لاکھ کروڑ روپئے قرض باقی

گروپ کی مختلف کمپنیوں اور پراجکٹس کی فروخت کا آغاز l مودی جی کے قریبی صنعت کار عوامی غیض و غضب سے ڈرنے لگے
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ریزرو بنک آف انڈیا کو خراب قرض یا Bad Loans کا سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے اور اس کے لیے حکومتوں اور سیاسی رہنماؤں کی اقربا پروری ذمہ دار ہے ۔ مودی جی عوام کو اچھے دن اچھے کے خواب دکھاتے رہے اور مودی و بی جے پی کے حامی صنعت کار ہندوستانی بینکوں کو لاکھوں کروڑ روپئے کا چونا لگا کر فرار ہوگئے جب کہ ہماری حکومت سے لے کر نفاذ قانون کی ایجنسیاں ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سی بی آئی ، این آئی اے سب کے سب تماشائی بنے رہے ۔ وجئے مالیا اور نیرو مودی کے علاوہ اس کے ساتھیوں کے ملک سے راہ فرار اختیار کرنے کے بعد مودی حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوئی اور بنکوں نے ایسے قرض کی وصولی کے لیے صرف چلانا شروع کردیا جس کی وصولی تقریبا ناممکن ہے ۔ اس قرض کو Bad Loans کہا جاتا ہے جو 10.25 لاکھ کروڑ روپئے سے تجاوز کر گیا آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انیل امبانی کی ریلائنس ٹیلی کمیونیکیشن اور اس کے دوسری کمپنیاں ، روپا اسپار گروپ ، ادانی گروپ ، جے پی گروپ ( منوج گوور ) ، جی ایم آر گروپ ( جی ایم راؤ ) ، لینکو گروپ ( ایل مدھو سدھن راؤ) ، ویڈیو کان گروپ ( وینو گوپال دھوت ) ، جی وی کے گروپ (جی وی کرشنا ریڈی ) ، ریلائنس انڈسٹریز ( مکیش امبانی ) ، جنرل اسٹیل اینڈ پاور لمٹیڈ ( نوین جندل ) ، ڈی ایل ایف لمٹیڈ شری رینوکا شوگرس لمٹیڈ اور سہارا گروپ قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے اکثر وزیراعظم نریندر مودی سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں صدر کانگریس راہول گاندھی نے ہندوستانیوں کو مودی حکومت ، صنعتکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ سے واقف کرواتے ہوئے سچ ہی کہا کہ مودی جی نے اپنے حمایتی صنعت کاروں کے 2.5 لاکھ کروڑ روپئے معاف کردئیے ہیں لیکن انہیں گھٹ گھٹ کر مرنے والے کسانوں کے قرض معاف کرنے کی زحمت نہیں ہوتی ۔ بہر حال ریزرو بینک آف انڈیا نے Bad Loans کی ہر حال میں وصولی کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے پیر کو ہی 24 بینکوں نے انٹرکریڈیٹر اگریمنٹ ICA پر دستخط کردئیے ہیں حالانکہ زائد از 73 بینکوں نے ICA پر دستخط کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ مکیش امبانی کا چھوٹا بھائی انیل امبانی اور اس کی کمپنیاں بینکوں کو ایک لاکھ اکیس ہزار کروڑ روپئے کا قرض واجب الادا ہے ۔ حالانکہ عالمی سطح پر دولت مندوں کی فہرست میں 2.1 ارب ڈالرس مالیتی اثاثوں کے ساتھ 887 واں اور قومی سطح پر 47 واں مقام حاصل ہے ۔ انیل امبانی کمیونیکیشن ، ڈیفنس ، فینانشیل سروسیس ، میڈیا اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بڑے پیمانے پر کاروبار سے جڑا ہوا ہے ۔ اس کے اسرائیل سے بھی اچھے تعلقات ہیں ۔ ریلائنس ڈیفنس اسرائیل کی رفائل اڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمس اور فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ مشترکہ وینچرس رکھتی ہے ۔ امبانی برادرس سے مودی جی کے قریبی تعلقات کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔ مودی جی کے پاس پریشان حال کسانوں کے لیے وقت نہیں ہے لیکن مکیش امبانی کا بیٹا اپنا جسمانی وزن کم کرتا ہے تو وہ اس کے اپنے دفتر میں خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ریلائنس کمیونیکیشن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مالی سال 2014-15 میں اسے 154 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا اور مالی سال 2015-16 کے پہلے سہ ماہی میں بھی نقصانات کا سلسلہ جاری رہا ۔ 31 دسمبر 2015 تک ریلائنس کمیونیکیشن کے نقصانات 2000 کروڑ تک پہنچ گئے جب کہ کمپنی 13440 کروڑ روپئے مالیتی ہے ۔ ریلائنس کمیونیکیشن چاہتی ہے کہ اپنے قرض کے بوجھ کو 30 ہزار کروڑ کے مواصلاتی اثاثے فروخت کرتے ہوئے 10000 کروڑ روپئے تک کم کرے ۔ دوسری طرف ریلائنس انفراسٹرکچر پر نومبر 2015 میں 25000 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ تھا جس پر اس نے اپنی برقی پیداوار اس کی ترسیل و تقسیم میں سے 49 فیصد کینڈین پنشن فنڈ پبلک سیکٹر پنشن انوسٹمنٹ بورڈ ( پی ایس پی انوسٹمنٹ ) کو فروخت کرنے سے اتفاق کیا ۔ اس سے کمپنی پر 7000 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ ہلکا ہوگا ۔ اس کے علاوہ انیل امبانی کی ریلائنس نے اپنے سمنٹ کے کاروبار بھی برلا کارپوریشن کو 4800 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے سے اتفاق کیا اور اب اپنے تمام سڑک پراجکٹس کو 9000 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لیے 3 بولی دہندگان تیار ہوگئے ہیں ۔۔