الیکشن کمیشن نے اشوک لاوسا کے مطالبات کو کیامسترد

نئی دہلی-الیکشن کمشنر اشوک لواسا کے اعتراضات پر پیدا ہوئے تنازعہ کو حل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملہ میں تمام اراکین کے بیان درج کئے جائیں گے ۔

کمیشن نے مسٹر لواسا کے اعتراضات اور میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے پیش نظر منگل کو اپنی اہم میٹنگ بلائی تھی جس میں مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ کے علاوہ الیکشن کمشنر مسٹر لواسا اور سشیل چندر نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ مسٹر لواسا نے مسٹر اروڑہ کو گزشتہ دنوں خط لکھ کر اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملہ میں فیصلہ دیتے وقت ان کے اعتراضات کو در ج نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اس کے پیش نظر مسٹر لواسا نے کمیشن کی میٹنگ میں شرکت نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ خبر جب میڈیا میں آئی تو کمیشن نے 21مئی کو اس معاملہ پر میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملہ میں کمیشن کی میٹنگ کی کارروائی درج کی جائے گی جس میں کمیشن کے تمام اراکین کی باتوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں مناسب ہدایات طے کی جائیں گی اور ضابطہ کے مطابق انہیں جاری کیا جائے گا۔

اس طرح الیکشن کمیشن کے اندر چل رہے داخلی ٹکراو اب ختم ہوگیا ہے ۔

خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے شکایتوں کو نپٹاتے ہوئے کمیشن نے مسٹر مودی کو تمام معاملات میں

کلین چٹ دے دی جبکہ مسٹر لواسا نے کچھ معاملات پر اعتراض ظاہر کیا لیکن ان کی رائے درج نہیں کی گئی

Leave a Comment