اترپردیش میں کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا ایک اور واقعہ

متاثرہ خاندان کا احتجاج، فرخ آباد شاہراہ کی ناکہ بندی، 10 لاکھ روپئے معاوضہ کا مطالبہ

ایٹاہ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے ضلع ایٹاہ میں شادی کے موقع پر شامیانہ نصب کرنے والے ایک شخص نے رات دیر گئے اس تقریب میں شرکت کرنے والی ایک سات سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کرنے کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا۔ قومی سلامتی قانون (این ایس اے ) کے تحت اس واقعہ کا نوٹ لیا گیا ہے ۔ اس واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان نے ایٹاہ ۔ فرخ آباد روڈ کی ناکہ بندی کردی اور عصمت ریزی کے وحشیانہ واقعات میں اچانک ہولناک اضافہ پر اپوزیشن جماعتوں نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مغربی اترپردیش میں یہ شرمناک واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب اناؤ میں حکمراں بی جے پی کے رکن اسمبلی کی طرف سے ایک کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کے مسئلہ پر یوگی حکومت عوامی برہمی سے نمٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ پولیس کے مطابق یہ بدبختانہ واقعہ دیڑھ بجے شب علی گنج روڈ پر منڈی سمیتی گیٹ کے قریب پیش آیا جہاں یہ کمسن لڑکی اپنے خاندان کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گئی تھی۔

19 سالہ سونو جاٹو کو شادی کی تقریب کے لئے ڈیرے شامیانے نصب کرنے کا کام دیا گیا تھا۔ اس شیطان صفت درندہ نے بھولی بھالی لڑکی کو بہلا پھسلا کر سنسان مقام پر لیجاکر عصمت ریزی کی اور پھر وحشیانہ انداز میں گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھلیش چورسیا نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے مزید کہاکہ ملزم حالت نشہ میں تھا اور جرم کے ارتکاب کے بعد فرار ہوگیا۔ لڑکی کی نعش شادی کے مقام سے قریب ایک زیرتعمیر گھر میں دستیاب ہوئی۔ لڑکی کی گردن کے اطراف رسی باندھی پائی گئی۔ اس حالت میں وہ دواخانہ منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹروں نے بعد معائنہ مردہ قرار دیا۔ نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم مردہ خانہ منتقل کردیا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہاکہ متوفی لڑکی کے خاندان کی شکایت پر سونو جاٹو کو گرفتار کرلیا گیا۔ انھوں نے کہاکہ ’’لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل پر ملزم کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور متاثرہ لڑکی چونکہ کمسن تھی ملزم کے خلاف کمسن بچوں کے خلاف جرائم کے انسداد سے متعلق قانون پوسکو کا استعمال کیا گیا ہے۔ متوفی لڑکی کے برہم ارکان خاندان نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایٹاہ ۔ فرخ آباد روڈ کی ناکہ بندی کردی اور 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان اور قانون ساز اسمبلی کے رکن سنیل سنگھ ساجن نے حکمراں بی جے پی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ’’مَیں یہ سمجھنے میں ناکام ہوگیا ہوں کہ بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ریاست کی صورتحال آخر کیوں اس حد تک ابتر ہوگئی۔ انھوں نے کہاکہ ’’بی جے پی نے ریاست میں برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی امن و قانون کی صورتحال بہتر بنانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن مَیں یہ محسوس کررہا ہوں کہ ریاست میں اب کمسن لڑکیاں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں‘‘۔ کانگریس نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ اس پارٹی کے ترجمان اشوک سنگھ نے عصمت ریزی اور دیگر جرائم میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد جرائم کے معاملہ میں اترپردیش ملک کی نمبر ایک ریاست بن گیا ہے۔ تاہم بی جے پی نے کہاکہ وہ مجرمین کو بچانے پر یقین نہیں رکھتی۔