حیدرآباد۔ 11 اپریل (سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں اسمبلی و لوک سبھا حلقہ جات کیلئے آج منعقدہ رائے دہی کے دوران ماسواء چند ایک ناخوشگوار و پرتشدد واقعات کے بحیثیت مجموعی طور پر پرامن رہی۔ چیف الیکٹورل آفیسر آندھرا پردیش گوپال کرشنا دیویدی نے یہ بات بتائی۔ شام 5 بجے تک جملہ 65.96% رائے دہی عمل میں آئی جبکہ قطاروں میں حق رائے دہی سے استفادہ کیلئے رائے دہندوں کو شام 6 بجے تک حق رائے دہی سے استفادہ کا موقع فراہم کرنے دی گئی ہدایت کی روشنی میں رائے دہی کے فیصد میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ آج شام ریاست میں رائے دہی کے پرامن اختتام کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گوپال کرشنا دیوی چیف الیکٹورل آفیسر آندھرا پردیش نے بتایا کہ رائے دہی کے قطعی فیصد کا اظہار کرنے کیلئے مزید کچھ وقت درکار ہوگا۔ رائے دہی کے موقع پر چند ایک پرتشدد واقعات پیش آئے۔ اس طرح ریاست بھر میں ایک دوسرے پر حملے کرنے وغیرہ کے تقریباً 25 واقعات پیش آئے۔ چھ مختلف مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو توڑ پھوڑ کرنے کا پولیس عہدیداروں نے اظہار کیا۔ ریاست میں پیش آئے ناخوشگوار واقعات میں 2 افراد کے ہلاک ہونے اور چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ بعض مقامات سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دوبارہ رائے دہی کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور ان شکایات پر دوبارہ رائے دہی کے مسئلہ پر مرکزی الیکشن کمیشن سے تبادلہ خیال کیا گیا اور مرکزی الیکشن کمیشن کے مبصرین کی جانب سے شکایات کی مکمل جانچ کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔