آصفہ کا اغوا ، عصمت ریزی اور قتل ، درندوں نے 7 یوم میں شیطانیت کی حد کردی آصفہ کیس کے اہم پہلو

نئی دہلی۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جموں کے کٹھوعہ میں 8 سالہ آصفہ بانو کے اغوا، عصمت ریزی اور قتل کے وحشیانہ واقعہ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں رنج و غم اور برہمی کی لہر دوڑا دی۔ یہ کمسن لڑکی جنگلاتی علاقوں میں اکثر اپنے جانوروں کو چَرانے کیلئے لے جایا کرتی تھی جبکہ اسے اور اس کے خانہ بدوش والدین کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ درندے اس معصوم لڑکی پر نظریں لگائے ہوئے ہیں۔ میڈیا نے پہلے کچھ ہفتہ آصفہ کے اغوا، عصمت ریزی اور قتل کیس کو جان بوجھ کر نظرانداز کردیا لیکن انسانیت سوز اس واقعہ نے جانبدار ،متعصب اور زرخرید غلام میڈیا کو بھی مجبور کردیا کہ وہ درندگی کے اس واقعہ کو پیش کرے۔ اس واقعہ کے بارے میں منظر عام پر آئے حقائق میں انکشاف کیا گیا کہ 10 جنوری 2018ء کو کشمیر کے کٹھوعہ کے ضلع میں ریٹائرڈ ریوینیو آفیسر اور مندر کے پجاری سانجی رام نے سازش رچی، سانجی رام نے کٹھوا کے ایس پی او دیپک کھجوریہ کو اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے سازش کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس سازش پر عمل آوری کیلئے سانجی رام نے اپنے بھتیجے کو اُکسایا اور بھتیجے نے اپنے دوست پرویش کمار (منو) کو اس میں شامل کرلیا چنانچہ سانجی رام کے بھتیجے اور اس کے دوست (منو) نے سازش کے تحت جذبات برانگیختہ کرنے اور شہوت بڑھانے کے علاوہ بے ہوش کرنے والی ڈرگس کی خریدی کی، نیز سانجی رام، اس کے بھتیجے اور دست منو نے آصفہ کو راست میں روک کر اس کے مویشیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے (آصفہ) کو جنگل کی طرف لے گئے۔ سانجی رام کے بھتیجے اور اس کے دوست منو نے آصفہ کو ڈرگس دیتے ہوئے جنگل میں ریپ کیا اور آصفہ کو مندر میں لے جاکر بند کردیا۔ سانجی رام کے بھتیجے نے سانجی رام کے بیٹے ’’شال جگوترا‘‘ کو میرٹھ سے یہ کہہ کر بلایا کہ سیکس کرنے کیلئے جموں آؤ، تمہاری خواہش پوری ہوگی۔

یہ حقیقت بھی منظر عام پر آئی کہ آصفہ کو مندر میں یرغمال بناکر تین دن تک بناء غذا دیئے صرف ڈرگس دیتے ہوئے رکھا گیا اور اس دوران متعدد مرتبہ اس غریب و بے بس لڑکی کے ساتھ منہ کالا کیا گیا۔ اس دوران آصفہ کی تلاش میں اس کے والد مندر پہنچے اور سانجی رام کو اپنی بیٹی کے گم ہوجانے کی اطلاع دی۔ سانجی رام نے انجا بنتے ہوئے کہا کہ لڑکی کہیں رشتہ دار کے پاس گئی ہوگی، وہاں تلاش کرو جس پر آصفہ کے والد نے 12 نوری کو ہیرا نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی اور پولیس کی جانب سے تلاش شروع ہوئی۔ آصفہ کے والدین کے ساتھ پولیس نے صبح 6 بجے سے آصفہ کی تلاش شروع کی۔ دوسری طرف سانجی رام نے ہیڈکانسٹبل تلک راج اور ایس آئی آنند دتہ کو دیڑھ لاکھ روپئے رشوت دیتے ہوئے خاموش کردیا۔ اس کے دوران 8:30 بجے صبح سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، بھتیجہ اور اس کا دوست منو مندر پہنچے اور سانجی رام کے بیٹے وشال اور منو دونوں نے آصفہ کا ریپ کیا۔ رات میں سانجی رام نے اپنے بیٹے اور بھتیجے سے کہا کہ اب وقت آگیا کہ آصفہ کو قتل کردیا جائے۔ اس طرح سانجی رام کا بیٹا، بھتیجہ اور اس کے دوست، آصفہ کو نالے کی طرف لے گئے۔ ایس پی او دیپک کھجوریہ نے جو اس سازش میں شروع سے ملا ہوا تھا، وہ بھی وہاں آپہنچا اور اس نے آصفہ کو قتل کرنے سے قبل ریپ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آصفہ کو قتل کرنے سے پہلے سانجی رام کا بیٹا، بھتیجہ، اس کے دوست اور دیپک نے آصفہ کی اجتماعی عصمت ریزی کی۔ اجتماعی عصمت ریزی کے بعد دیپک نے آصفہ کا گلا اس کے ہی کپڑوں سے گھونٹ دیا۔ آخر میں سانجی رام کے بھتیجہ نے آصفہ کے سر پر پتھر دے مارا اور نعش جنگل میں پھینک دی۔