آر ایس ایس افواہ پھیلانے والی سوسائٹی۔ جرنی آف ڈیموکرسی سے رام پنیانی ‘ امی یاگنک ‘ ابھیشک پرتاب سنگھ اوردیگر کا خطاب

حیدرآباد۔آر ایس ایس افواہ پھیلانی والی سوسائٹی ہے’’ر ومرس اسپریڈنگ سوسائٹی‘‘ جس کا مقصد ہندوستان میں منوسمرتی قانون کو کسی بھی صورت میں نافذ کرتے ہوئے جمہوری ملک کو ہندو راشٹرمیں تبدیل کرنا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں ہندوستان کی آزادی کے بجائے انگریزوں کی غلامی کو ترجیح دی تھی اور آج بھی انگریزو ں کی حمایت میں ہندوستان کے دستور کو غیر ملکی قراردینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔

نفرت پھیلاکر ملک کے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا تاکہ منوسمرتی کے قانون کو نافذ کیاجاسکے اس تنظیم کا بنیادی مقصد ہے ۔ سیول سوسائٹی اور دستور حامی لوگ جب تک آر ایس ایس کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھیں گے تب تک وہ اپنی مہم میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔

ائی ائی ٹی ممبئی کے سابق پروفیسر وسماجی جہدکار رام پنیانی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وہ آج یہاں سندریا وگیان کیندرم باغ لنگم پلی میں یونائیٹڈ سٹیزن فورم کے زیر اہتمام ’’ جرنی آف ڈیموکرسی‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔

جس میں کانگریس کے قومی ترجمان ابھیشک پرتاب سنگھ‘ گجرات کی رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا ڈاکٹر آمی یاگنک‘ انسانی حقوق او ردلت حقوق کی لڑائی لڑنے والے ڈاکٹر لینین راگھووانشی ‘حیدرآباد ہائی کورٹ کے ممتاز وکیل وسیم احمد خان نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔پروفیسر رام پنیانی نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ میانمار میں بدھسٹوں کی شدت پسندی ‘ پاکستان میں اسلامی شدت پسندی او ربھارت کی ہندو شدت پسندی میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ تینوں بھی اپنی ایک سونچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے سماج میں نفرت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے اپنی سیاسی روٹیاں سیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ تین اقسام کی شدت پسندی ہر لحاظ سے قبل مذمت ہے۔ مسٹر پنیانی نے کہاکہ شہیدبھگت سنگھ ہو یاپھر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہوں یا مہاتماگاندھی یقیناًان تینو ں کے درمیان آپسی اختلافات تھے مگر یہ تینوں حب الوطنی ‘مساوات اور ملک کے بھائی چارہ کی برقراری کے لئے ایک طرح کی سونچ رکھتے تھے اس کے برخلاف اگر ساورکر‘ او رجناح کی رشٹرواد کی بات کریں تو اس میں نہ نظریاتی اتحاد تھا او رنہ ہی ملک کی ترقی کے لئے انہو ں نے کوئی ٹھوس کارنامہ انجام دئے ۔

برخلاف اسکے سماج میں تفرقہ پیدا کرنے والی دونوں کی سونچ میں ضرور یکسانیت تھی۔مسٹر پنیانی نے کہاکہ آج ملک کی ترقی کی باتیں کرنے والی مرکزی حکومت جو آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کرتی ہے اس کا بھی یہی مقصد ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ کرناٹک کے رکن پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے کی زبان پر غیردانستہ طور پر ہی صحیح مگر سچائی زبان پر اگئی اور انہوں نے عوام کے روبرو خود اس بات کااعتراف کرلیا ہے کہ بی جے پی اقتدار میں محض دستور ہند کو ہٹانے کے لئے ہے۔

مسٹر پنیانی نے کہاکہ وہ دستور جس کی ترمیم بھارت میں اونچی سونچ کے حامل لوگوں نے کی ہے اور اس کمیٹی کے چیرمن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو بنایاگیا تھا جنھوں نے چودہ تالابوں اور کالی مندر کی تحریک شروع کی تھی تاکہ دلتوں کو بھی ان کنوؤں سے پانی لینے کا موقع ملا جہاں سے اعلی ذات کے لوگوں پانی لے کر استعمال کرتے ہیں او ردلتوں کو بھی ان منادر میں جانے کا موقع ملے جہاں پر اعلی ذات کے لوگوں پوجا پاٹ کرتے ہیں۔

مسٹر پنیانی نے کہاکہ آر ایس ایس کی زیر نگرانی چلائی جارہی مرکز کی بی جے پی حکومت کو ایک نکاتی ایجنڈہ نفرت کو پھیلاکر آپسی بھائی چارے کو متاثرکرنا ہے تاکہ ان کا مقصد پورا ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ برٹش دور کے ایک مورخ نے ہندوستان کی تاریخ پر پہلی کتاب مذہبی عینک پہن کر تحریرکی ۔

انہو ں نے کہاکہ برطانوی مورخ نے ہندوستان کی تاریخ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جس میں پہلا حصہ ویدک کال تھا جبکہ دوسرا حصہ مسلمان راجاؤں کا اور تیسرا حصہ انگریزوں کا ماڈرن دور حکمرانی او راسی کتاب کی بنیاد پر آج بھی فسطائی طاقتیں مسلمان راجاؤں کے دور کو بھارت کی تاریخ پر ایک سیاہ باب کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔

جس میں مبینہ طور پر منادر کو مہندم کرنے کی باتیں‘ نفرت پر مشتمل من گھڑت کہانیاں تحریرہیں۔ پروفیسر رام پنیانی نے کہاکہ علاؤ الدین خلیجی کے خلاف نفرت اسی تحریر کا حصہ ہے جو انگریزوں کی غلامی کو ترجیح دینے والے آج بھی مانتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خلیجی کی تاریخ ہے وہ ناتو جابر حکمران تھے اور نہ ہی حوس کے پجاری بلکہ وہ ایک سنجیدہ او رسلجھے ہوئے حکمران تھے جنھوں نے دہلی کے تخت وتاج پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ حکمرانی کرتے ہوئے ملک کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ راجاؤں کے خلاف نفرت پھیلانا بھی سیاسی مقصد کی تکمیل ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ مسلم حکمران کے پاس تمام اعلی منصوبو ں پر غیرمسلم او رغیر مسلم حکمرانو ں کے پا س ذمہ دار عہدوں پر مسلمان فائز رہے ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ نفرت پھیلانے والوں کی کوششوں کو ہمیں سب ساتھ ملکر ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور سیول سوسائٹی پر اس کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ڈاکٹر آمی یاگنک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے تئیں مودی حکومت کی کوتاہیوں کا ذکر کیااو رکہاکہ یوپی اے کے دور میں ہی جو کارنامہ انجام دئے گئے ان کا لیبل تبدیل کرکے موجودہ حکومت چارسالوں میں بڑی تبدیلیوں کے ڈھول بجارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کو 33فیصد تحفظات ‘ گھریلو تشدد ایکٹ ‘ خواتین کے ساتھ بڑھتے عصمت ریزی کے واقعات ‘ کتھوا سے لیکر اونناؤ تک خواتین او رمعصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والی بربریت کی روک تھام میں موجودہ حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے اور پھر کہتی ہے کہ ہم خواتین کی فلاح وبہبود میں سنجیدہ ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ بیانات سے خواتین کا تحفظ ممکن نہیں ہے‘ اس کے لئے زمینی حقائق پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر آمی نے کہاکہ آج لڑکیو ں کا نوجوان طبقے خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے اور اس کی ذمہ دار مرکزی او رریاستی حکومتیں ہیں جنھوں نے خواتین کے لئے دستور ہند کے تحت دئے گئے قوانین تو نافذ کردئے مگر ان پر عملی اقدامات کو روبعمل لانے کی کوشش نہیں ہے ۔

ڈاکٹر آمی یاگنک نے کہاکہ یوپی اے حکومت نے 2013میں بربھیا عصمت ریزواقعہ کے فوری بعد سخت نربھیا قانون نافذ کردیا مگر 2014کے بعد سے اب تک اس قانون کو عملی جامعہ پہنانے کا موجود ہ بی جے پی کی حکومت نے کام نہیں کیاہے۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان موجودہ چارسالہ دور حکومت سے قبل ہی سوپر پاؤر بن گیاتھا۔ آج ملک کو ترقی پر گامزن کرنے کے جودعوی کئے جارہے ہیں وہ دراصل جھوٹ کا پلند ہ ہیں او رحقیقت یہ ہے کہ ان چارسالوں میں خواتین اور لڑکیوں کے اندر تحفظ کے احساس میں زبردست کمی ائی ہے اور اس با ت کو موجودہ حکمرانوں کو قبول کرنی چاہئے۔

کانگریس ترجمان ابھیشک پرتاب سنگھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کٹر ہندوتوا لیڈر اور اجن سنگھ کے سرگرم لیڈر شیام پرسادمکھرجی جن کے نظریات پر موجودہ بی جے پی چلانے کا دعوی کیاجاتا ہے وہ خود 1942میں مسلم لیگ کے مغربی بنگال حکومت میں ڈپٹی چیف منسٹر رہ چکے ہیں ۔

انہو ں نے بی جے پی کی حب الوطنی اور مذہب سے محبت کو موقع پرستی قراردیا ہے۔

انہو ں نے مزید کہاکہ واجپائی کی گواہی پر مجاہد جنگ آزادی کو چار چار سال قید کی سزاء ہوئی ہے او رکیا اس بات سے آج بی جے پی انکا رکرسکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نریند رمودی جو ایک وقت میںآر ایس ایس کے پرچارک رہی ہیں ان کا دھرم جھوٹ بولنا اور نفرت پھیلانا ہے اور فرقہ پرستی کے ذریعہ سماج کو تقسیم کرنا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ یقیناًآج اقتدار ان کے ساتھ ہے مگر ملک کی عوام ہرگز ان کے ساتھ نہیں ہے ۔

مسٹر سنگھ نے کہاکہ ان کی نفرت کی سیاست سے عوام واقف ہوگئی ہے۔انہو نے کہاکہ بی جے پی کی رام بھکتی دراصل راج بھکتی ہے اور موقع کی مناسبت سے وہ رام کو یاد کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پچھلے ستر سالوں کی ناقابل فراموش پالیسیوں کے نتیجے میں آج ملک ترقی کی راستے پر ہے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ان چارسالوں میں تو ملک کا کسان اتنی بڑی تعداد میں خودکشی کررہا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ دستور کا چوتھا ستو ن مانے جانے والے میڈیا پر بھی آج ان کی اجارہ داری ہے مگر یہ لوگ بھول گئے کہ جب انگریزوں کے ساتھ میڈیا تھا مگر انسانی زنجیر نے باپو ( مہاتماگاندھی)کے آزادی پیغام کو کشمیر سے کنیا کمار ی تک بغیرمیڈیا کے کس طرح پہنچایاتھا۔

ڈاکٹر لینن راگھو وانشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آر ایس ایس ہندوستان میں ائی ایس ائی ایس کے طرز پر کام کرتے ہوئے سماج کو بانٹنے کاکام کررہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اسلام وہ مذہب ہے جس بانی پیغمبر اسلام نے حضرت بلالؓ جوکہ ایک غلام تھے انہیں موذن اسلام بنادیا۔ دستور مکہ نافذ کیا ۔ فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا ۔اور یہی وہ واقعات ہیں جن سے اسلام کو فروغ ملا اور لوگوں کے اندر اسلام کے متعلق پائی جانے والی بدگمانیاں دور ہوئیں۔ انہو ں نے کہاکہ اسلام کے ان واقعات کو چھپا کر ائی ایس ائی ایس جیسے شدت پسندو ں سے اسلام کو جوڑنے کاکام کیاجاتا ہے تاکہ مذہب اسلام کو بدنام کیاجاسکے ۔

انہوں نے کہاکہ یہی حال ہندووادیوں کا بھی جو حقیقی ہندو مذہب کے بجائے نفرت کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ آر ایس ایس نے انگریزوں سے ہاتھ ملایامسلمانوں کو نقصان پہنچایاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ گوالکر نے صاف طورپر کہاتھا کہ ہمیں انگریزوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ہندوؤں کی روایتی تہذیب کو ختم کرنے او رمنو سمرتی جیسے قانون کو نافذ کرنے کے لئے ہندو مذہب کا غلط رخ فسطائی طاقتیں پیش کرتی آرہی ہیں۔

انہو ں نے کہاکہ اس کام میں منافع خور برہمنوں نے اہم رول ادا کیا اور برہمن واد کو آگے بڑھایا جس کے خطرناک نتائج آج برامد ہورہے ہیں۔اچھی بات کرنے والوں کوپپو کا لقب دیاجاتا ہے۔

سارے ملک میں دلتوں او رمسلمانو ں کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ان حملوں کے پس پردہ کاٹیج انڈسٹری کا خاتمہ بھی کارفرما ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ کارپوریٹ فسطائیت کا اصل مقصد دلت اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے یہ مذکورہ طبقات کاٹیج انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور اگر ان کے اندر خوف وہراسانی کا ماحول پیدا کردیاگیا تو یہ خود بخود اس شعبہ سے دور ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بنار س میں اس با ر مودی کی جیت ممکن نہیں ہے کیونکہ سیول سوسائٹی او رسماج میں سدھار کے خواہش مندوں نے کمر کس لی ہے ہم کسی بھی صورت میں مودی کوبنارس سے دوبارہ جیت حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

Leave a Comment