1960 ماڈل کی رالے سیکل 62 سالہ میکانک کی صحت کا اہم راز
ہندوستان میں ہر سال 16 ملین سیکلوں کی تیاری
انسان ابتداء سے ہی حمل و نقل کے ذرائع کی تلاش میں سرگرداں رہا ۔ پہیوں کی ایجاد نے اس کے لیے حمل و نقل کے دروازے کھول دئیے ۔ جہاں تک سیکل کی ایجاد کا سوال ہے اسے پندرھویں صدی کی ایجاد بتایا جاتا ہے لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ سیکل 1817 میں جرمن میں تیار کی گئی ہندوستان میں سیکلوں کی آمد کا سلسلہ 1890 سے شروع ہوا اور 1905 کے دوران کافی تعداد میں سیکلیں برطانیہ ، جرمنی اور فرانس سے درآمد کی جانے لگیں ۔ 1890 میں ایمپورٹیڈ سیکل کی قیمت 45 روپئے تھی لیکن 1917 میں یہ قیمت 500 روپئے تک پہنچ گئی تھی ۔ واضح رہے کہ ہر سال ساری دنیا میں 130 ملین سیکلیں تیار ہوتی ہیں ۔ جن میں سے تقریبا 16 ملین ( یعنی 9 فیصد سیکلوں ) کی ہمارے ملک میں تیاری عمل میں آتی ہے ۔ ہندوستان ہر سال 1.2 ارب ڈالرس مالیتی سیکلیں تیار کرتا ہے ۔ جب کہ دنیا میں تیار ہونے والی ہر تین سیکلوں میں سے دو کی چین میں تیاری عمل میں آتی ہے ۔ سیکل صحت مندانہ طرز زندگی کو یقینی بنانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔۔
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : حیدرآباد فرخندہ بنیاد بلکہ سارے ہندستان میں ایک ایسا بھی دور تھا جب کسی کے ہاں ذاتی سیکل کا ہونا بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی اس وقت ذاتی سیکل رکھنے والے بڑے فخر کے ساتھ پینڈل مارتے ہوئے گذرا کرتے تھے اور لوگ انہیں رشک بھری نظروں سے دیکھتے لیکن اب اس مصروف ترین دور میں کمسن لڑکے جوان بوڑھے سب کے سب موٹر سیکلوں اور کاروں میں گھومتے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے شہر کی سڑکوں پر سیکلس بہت کم دوڑتی نظر آرہی ہیں ۔ حالانکہ زمانے قدیم سے ہی حیدرآباد کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ کاروں سے لے کر الیکٹرانک اشیاء اور فرنیچر سے لے کر ہر نئی چیز ہندوستان میں سب سے پہلے حیدرآباد میں پہنچائی جاتی رہیں کیوں کہ یہاں کے لوگوں کی قوت خرید دوسری دیسی ریاستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تھی ۔ قارئین ۔ ہم بات کررہے تھے سیکلوں کی آج کل سڑکوں پر بہت کم سیکلیں دکھائی دیتی ہیں لیکن ہم نے ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کی ہے جو تقریبا 50 برسوں سے سیکل کا استعمال کررہے ہیں ۔ 62 سالہ مرزا خواجہ بیگ ولد مرزا محمد بیگ ساکن چندو لال بارہ دری 1960 ماڈل کی ایک صاف ستھری مضبوط اور پائیدار رالے Raleigh سیکل کے مالک ہیں اور اس وقت ، 1960-61 کا بلدی نمبر تک درج ہے ۔ 6 بچوں ( 4 لڑکیوں اور 2 لڑکوں ) کے باپ مرزا خواجہ بیگ کار کے دروازوں کے لاک کی درستگی کا کام کرتے ہیں وہ یہ کام 1967 سے کرتے آرہے ہیں اور تب ہی سے ان کے پاس یہ رالے سیکل موجود ہے ۔ واضح رہے کہ یہ سیکل انگلینڈ سے منگوائی جاتی تھی اور اس کی قیمت 47 تا 50 ہزار تک جا پہنچی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سیکل کا اولاد کی طرح خیال رکھتے ہیں ۔ اس سیکل میں ملر کمپنی کا ڈائنما نصب ہے جو 54 سال گذر جانے کے باوجود بالکل چالو حالت میں ہے ۔ پیڈل ، گیئر ، چین اصلی اور اچھی حالت میں ہیں ۔ مرزا خواجہ بیگ کے مطابق وہ اپنی اس سیکل کا اس قدر خیال رکھتے ہیں کہ کسی کو بھی اسے چلانے کی اجازت نہیں دیتے ۔ اب اس سیکل کا شمار نادر و نایاب سیکلوں میں ہونے لگاہے ۔ وہ کہتے ہیں ’ میں سارا شہر سیکل پر پھرتا ہوں ، سیکل چلانا صحت کے لیے بہت اچھا ہے ، سیکل کی بات ہی کچھ اور ہے وہ 62 برس کے ہوچکے ہیں لیکن وہ ہر بیماری سے محفوظ ہیں ۔ شوگر وغیرہ ان سے دور ہے ۔ قدیم دور کی سیکلوں کے بارے میں مرزا خواجہ بیگ المعروف خواجہ میاں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رالے سیکل ، رابن ہوڈ ، بی ایس اے ، فلپس ، ہرکیولس ، ہنبر ، کولمبیا وغیرہ مشہور برانڈس ہوا کرتے تھے ۔ رالے سیکل کی قیمت 500 روپئے ہوتی تھی انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ موٹر بائیکس ہونے کے باوجود وہ سیکل کو ترجیح دیتے ہیں ۔ خواجہ میاں نے جن کا ایک لڑکا میڈیکل ہال میں کام کرتا ہے اور دوسرا ایم بی اے کررہا ہے بتایا کہ ان کی تین بچیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں اور ایک لڑکی کی عنقریب شادی ہونے والی ہے ۔ بہر حال خواجہ میاں کی اس رالے سیکل دیکھنے کے بعد ہم نے انٹرنٹ پر نادر و نایاب سیکلوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس پر پتہ چلا کہ 1960 ماڈل کی رالے سیکل کی قیمت 50000 تا 750000 روپئے تک جا پہنچی ہے ۔۔