1992 ء کے ایودھیا فساد کی تحقیقات کا مطالبہ ایس آئی ٹی انکوائری ضروری، مسلم گروپ کا بیان

فیض آباد ۔ 17 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسلم گروپ نے اترپردیش حکومت سے اپیل کی ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کی جائے جو بابری مسجد شہادت کے بعد پیش آئے 1992 ء کے ایودھیا فسادات کی تحقیقات کرے۔ یہ مطالبہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ اکھلیش یادو زیر قیادت سماج وادی پارٹی حکومت نے 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات کے متاثرین کیلئے پانچ لاکھ روپئے کے اضافی معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ مسلم گروپ نے ریاستی حکومت سے کہا کہ ایس آئی ٹی تحقیقات شروع کرائی جائے کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ فساد جو 6 ڈسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد پیش آیا اور 7 ڈسمبر تک جاری رہا، اس میں زائد از دو درجن افراد ہلاک ہوگئے ،جو مبینہ طور پر وشوا ہندو پریشد کے کارسیوکوں کی کارستانی رہی، جس کی کبھی تحقیقات نہیں کی گئی، نہ کوئی گرفتاریاں ہوئیں اور کوئی چارج شیٹ پیش کی گئی ۔جمیعۃ العلمائے ہند کے سینئر لیڈر کیپٹن افضال احمد خان نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’ہم ایودھیا قتل عام کے متاثرین کیلئے کوئی معاوضہ کا تقاضہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا ریاستی حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس قتل عام کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی قائم کی جائے کیونکہ کبھی بھی اس معاملہ کی انکوائری نہیں ہوئی، نہ کوئی گرفتاریاں ہوئیں ، نہ کسی کے خلاف وارنٹس جاری کئے گئے اور نہ پولیس نے کبھی کسی کے خلاف فرد جرم داخل کی ہے‘‘۔