…… اے ایم یو تنازعہ …… وائس چانسلر سے عدالت کی وضاحت طلبی

الہ آباد؍ علیگڑھ ۔ /14نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) الہ آباد ہائی کورٹ نے آج مفاد عامہ کی درخواست کے ادخال کے بعد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست میں یونیورسٹی کو عدالت کی جانب سے یہ ہدایت دیئے جانے کی خواہش کی گئی ہے کہ مولانا آزاد لائبریری میں طالبات کو آنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس وائی ایس چندر چوڈ اور جسٹس پی کے ایس باگیل پر مشتمل بنچ نے وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ سے 24نومبر تک جواب طلب کیا ہے۔ یہ درخواست قانون کی طالبہ اور سماجی کارکن دکشا دیویدی کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔دوسری طرف علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلباء یونین نے بھی مسلم یونیورسٹی سے متعلق وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کے ریمارک کا سخت نوٹ لیتے ہوئے وائس چانسلر سے اظہار یگانگت کیا ہے۔ طلباء کی نئی یونین کے افتتاح کے موقع پر یونین کے دفتری ارکان نے سمرتی ایرانی کے ریمارک کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ دراصل درپردہ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یونیورسٹی کے قیام سے اس کا سلسلہ جاری ہے۔ جو قوانین اور ضوابط وضع کئے گئے ہیں ان پر برسوں سے عمل آوری کی جارہی ہے تو پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ طالبات کو مولانا آزاد لائبریری آنے کی ضرورت پڑگئی۔ حالانکہ وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے بھی کئی بار وضاحت کی کہ انڈر گریجویٹ طالبات کے کالج سے لائبریری کا فاصلہ تین کیلو میٹر ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور سونے کی زنجیریں چھین لینے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس یونین کے صدر عبداللہ اعظم نے البتہ وائس چانسلر سے ایک طمانیت کی خواہش کی کہ یونیورسٹی میں داخلہ کے طریقہ میں شفافیت پیدا کی جائے ۔ حالیہ دنوں میں مبینہ بے قاعدگیوں کی رپورٹ کی وجہ سے یونیورسٹی کی نیک نامی متاثر ہورہی ہے۔ لہذا وائس چانسلر طمانیت دیں کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے یونیورسٹی کی نیک نامی اور روایت متاثر ہو۔