عام آدمی کی خاص بات
’ غربت بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ‘
تلن کرنے والی حوصلہ مند خاتون ریحانہ بیگم سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : عیدی بازار میں رہائش پذیر 45 سالہ خاتون ریحانہ بیگم جدوجہد کر کے صرف اپنے 6 بچوں کو پالتی ہی نہیں بلکہ ان کی بہترین پرورش بھی کرتی ہیں ۔ ان کی ایک صاحبزادی ڈگری سال اول میں زیر تعلیم ہے ۔ دوسری لڑکی انٹر کررہی ہے ایک اور لڑکی ایم ایس کالج میں پڑھ رہی ہے اور دو لڑکے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ریحانہ بیگم یہ ساری ذمہ داریاں بہ حسن و خوبی صرف ایک ٹھیلہ بنڈی پر نبھا رہی ہیں ۔ یہ مشقت گذشتہ 18 برسوں سے جاری ہے ۔ اس ٹھیلہ بنڈی پر وہ تلن کی چیزیں جیسے مرچی ، بھجئیے ، مرکل پاپڑ وغیرہ فروخت کرتی ہیں وہ بھی شہر کی مختلف درگاہوں کے اعراس ( عرس ) کے موقع پر ریحانہ بیگم کو شہر کی مختلف درگاہوں کے عرس کی تاریخ یاد رہتی ہے ۔ ہم راستے سے گزر رہے تھے کہ ہماری نظر اس ٹھیلہ بنڈی پر پڑی جہاں خاصہ بڑا ہجوم تھا کافی گاہک موجود تھے ۔ اتنی محنت ریحانہ بیگم جو خود بالکل پڑھی لکھی نہیں ہیں محض اس لیے کرتی ہیں کہ اپنے تمام بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرے اور وہ الحمدﷲ اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہورہی ہیں ۔ مصروفیت کے باوجود ہم سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کدو کاوش کی وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اولاد ، ان کی طرح علم کی دولت سے محروم نہ ہوجائے ۔ جو کمی ان کی زندگی میں ہے وہ ان کے بچوں کی زندگی میں نہ رہے ۔ بچوں کی تعلیم کے اعلیٰ مقصد کے لیے وہ اتنی محنت کرتی ہیں ۔ ان کے شوہر سید ساجد علی مغل پورہ میں جلیبی تل کر فروخت کرتے ہیں ۔ غربت بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ اس بات کو ریحانہ بیگم نے سچ کر دکھایا ۔ جہاں کہیں عرس کی تقریب ہوتی ہے ( جو انہیں یاد رہتی ہے ) وہ اپنی بنڈی اور سامان لے کر پہنچ جاتی ہیں ۔ اس طرح انہیں ایک ہزار روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہے جس کو وہ پوری طرح سے بچوں کی تعلیم کا خرچ کرنے میں لگا دیتی ہیں ۔ شوہر کی کمائی سے گھر چلتا ہے ۔ اکثر خوشحال گھرانوں کے بچوں میں تعلیم سے دلچسپی نہیں ہوتی ۔ یہاں ریحانہ بیگم کے بچے بھی خوب محنت کررہے ہیں اور اچھے نتائج حاصل کررہے ہیں ۔ محنت اور بچوں کی تعلیم سے دلچسپی کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے یہ کہانی درس عبرت بن سکتی ہے ۔ ان خاندانوں کے لیے جہاں فراوانی کے باوجود بچے تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ یہ کہانی ایسے بچوں کو ضرور سنائی جانی چاہئے ۔۔