حیدرآباد۔/22اپریل، ( سیاست نیوز) فورم آف بی ایس این ایل یونین و اسوسی ایشن نے ’’ بی ایس این ایل بچاؤ، ملک کو بچاؤ ‘‘ کے مطالہ بپر ریاست بھر میں منظم کردہ دو روزہ ہڑتال کی کامیابی کا ادعا کیا اور کہا کہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں ہی ریاستوں میں بی ایس این ایل میں خدمات انجام دینے والے ملازمین و عہدیداروں نے دو روزہ ہڑتال میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے بی ایس این ایل خدمات مکمل ٹھپ ہوکر رہ گئیں لیکن دو روزہ اس ہڑتال سے صارفین کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر بی اشوک بابو نائب صدر آل انڈیا بی ایس این ایل ایمپلائز یونین نے یہ بات کہی اور بتایا کہ دو روزہ ہڑتال ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے مطالبہ پر نہیں کی گئی بلکہ بی ایس این ایل کو ختم ہونے سے بچانے کیلئے کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت محض خانگی ٹیلی فون کمپنیوں کو بڑھاوا دینے کیلئے بی ایس این ایل کو نظرانداز کررہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے دیہی علاقوں تک بی ایس این ایل کی عوام کو سہولتیں فراہم کرتے ہوئے ہونے والے نقصانات کی پابجائی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور نقصانات کی پابجائی کا سلسلہ سال 2007 کروڑ روپیوں کے خسارہ سے دوچار ہے۔ اگر یہ رقومات اب بھی مرکزی حکومت فراہم کرے تو بی ایس این ایل دوبارہ فعال و کارکرد ہوکر اپنے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرتے ہوئے زبردست فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔
مسٹر اشوک بابو نے مرکزی حکومت سے بی ایس این ایل کے نقصانات کی فی الفور پابجائی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا بصورت دیگر بڑے پیمانہ پر ملک گیر ہڑتال شروع کرنے کا انتباہ دیا۔