’’یو پی اے کی گندگی کو ہم صاف کررہے ہیں ‘‘: مودی

ٹورنٹو۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) میڈسن اسکوائر جیسے جلسہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے آج غیرمقیم ہندوستانیوں کے کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یو پی اے حکومت پر شدید تنقید کی اور یہ کہا کہ جب انہوں نے بڑے پیمانے پر صفائی مہم شروع کی تو یہ عہد کیا تھا کہ یو پی اے کی چھوڑی ہوئی گندگی کو صاف کرکے ہندوستان کی ’’اسکامس‘‘ والی امیج‘‘ بدل کر ’’مہارت و خوبیوں والا ملک‘‘ بنائیں گے۔ انہوں نے کیناڈا کے وزیراعظم اسٹیفن ہارپر اور ان کی اہلیہ کی موجودگی میں ہندوستانی عوام کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے گجراتی زبان میں ’’کھیم چو‘‘ (آپ کیسے ہیں) کہہ کر تقریر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو کئی چیلنجس کا سامنا ہے اور اس کا صرف ایک ہی علاج ہے۔

اس پر ہجوم نے ’’مودی مودی‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ ترقی میں ہی تمام مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ملک کو ترقی دی جائے تو مسائل خودبخود غائب ہوجائیں گے۔ ملک کو ’’تیزی سے ترقی کی راہ پر لے جانے میں ہی کامیابی ہے۔ سابق حکومت پر درپردہ تنقید کرنے کے لئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’جن کو گندگی کرنی تھی‘‘ وہ کرکے چلے گئے لیکن ہم صفائی کریں گے۔ ہم اس گندگی کو صاف کرتے ہوئے ترقی کریں گے۔ یہ بہت بڑا ملک ہے۔ یہاں کی عوام الناس کی کثیر تعداد رہتی ہے۔ صفائی کے لئے وقت درکار ہے اور یہ صفائی عوام کے رویہ میں تبدیلی کے ساتھ ہی پوری ہوگی۔ مودی نے کہا کہ پہلے ہندوستان کو ’’اِسکام انڈیا‘‘ کی حیثیت سے جانا جاتا تھا، اب ہم چاہتے ہیں کہ اس کی پہچان ’’ماہر انڈیا‘‘ کی حیثیت سے ہوجائے۔

انہوں نے سابق حکومت پر ایک اور تنقید کی کہ اس حکومت کے دور میں کئی اسکامس ہوئے تھے۔ اس جلسہ کی میزبانی وزیراعظم کینیڈا اسٹیفن ہارپر نے کی تھی جس میں غیرمقیم ہندوستانیوں کی کثیر تعداد شریک تھے جو برسوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ یہ منظر گزشتہ سال مودی کے دورہ امریکہ اور نیویارک میں میڈسن اسکوائر پر کئے گئے خطاب کا عکس پیش کررہا تھا۔ مودی نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران عوام کا رویہ تبدیل ہوا ہے۔ اب ہندوستان میں بھروسہ و اعتماد کی فضاء پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے صاف ستھرا ہندوستان مہم کامیاب ہورہی ہے۔انہوں نے ہندوستان میں عوام کے رویہ میں تبدیلی پر ہندی فلم کے گیت ’’کتنا بدل گیا ہے انسان‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ میری حکومت آنے کے بعد عوام میں بھروسہ و اعتماد پیدا ہوا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے جب وہ ’’سوچھ بھارت‘‘ کا اعلان کیا تھا، عام شہری بھی صفائی میں مصروف ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا قیمتی اثاثہ اس ملک کے 80 کروڑ نوجوانوں ہیں۔ ان نوجوانوں کو 80 کروڑ خواب ہیں اور جب 160 کروڑ ہاتھ ملاکر کام کریں گے تو روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔میں ہندوستانی نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے والا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے کے قابل شہری بنانا چاہتا ہوں۔ ان میں مہارت پیدا کرکے ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے خواب کو پورا کروں گا۔