’’ہندوستانی مسلمان حب الوطن ۔ کوئی طاقت اُنہیں ملک دشمن نہیں بناسکتی ‘‘

جئے پور۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ ’’اگر ہمارا پڑوسی ملک دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے تو جنوبی ایشیا میں سکیورٹی کی صورتحال غیرمعمولی طور پر بہتر ہوگی‘‘۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ’حب الوطن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’کوئی طاقت ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو ’ملک دشمن‘ نہیں بناسکتی۔ دولت اسلامیہ (داعش) بھی مسلمانوں کو ورغلانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ملک سے بے حد پیار ہے اور وہ اس ملک کے اصل دھارے سے اَٹوٹ طور پر وابستہ ہیں۔ وہ کسی بنیاد پرستی کے نظریات یا انتہا پسندوں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ یہ ان کی فطرت نہیں ہے کہ وہ کسی کے ورغلانے میں آجائیں‘‘۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ تر دہشت گرد سرگرمیوں کا مبدا سرحدوں سے پھوٹ رہا ہے اور یہ بڑی بدبختانہ بات ہے کہ خود دہشت گردی کا بری طرح شکار ہونے کے باوجود پاکستان اور اس کے حامی ، دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔ یہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دہشت گردوں میں کوئی اچھا یا بُرا نہیں ہوتا۔ دہشت گردوں کی زمرہ بندی کرنا غلط ہے اور اچھے اور بُرے دہشت گرد نہیں ہوتے، یہ لوگ بہرحال خراب ہی ہوتے ہیں۔ اگر آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج بعض دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنا بند کردیں تو خطے میں امن یقینی ہوگا۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش یا تذبذب نہیں ہوگا کہ جنوبی ایشیا میں سکیورٹی کی صورتحال اس وقت ہی غیرمعمولی طور پر بہتر ہوگی جب پاکستان سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے گا۔ انسداد دہشت گردی پر بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ دہشت گردی کو خفیہ جنگ کے طور پر استعمال کرنے، اس کی حکمت عملی کے کتنے بھیانک نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہوں سے وہ خفیہ جنگ کی خاطر دہشت گردوں کی سرپرستی کررہا ہے اور دہشت گردوں کو آلہ کار بناکر امن کو درہم برہم کررہا ہے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار سے اپنی کارروائیاں انجام دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کے نتیجہ میں یہ تنظیمیں پاکستان کی سرزمین کو ہی لہولہان کررہی ہیں۔ سرحد پار کئی علاقوں میں دہشت گرد حملوں کے ذریعہ امن کو خطرہ میں ڈالا جارہا ہے۔ اس طرح کی خفیہ جنگیں دنیا کے دیگر حصوں میں بھی لڑی جارہی ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کو آج کی ڈیجیٹل دنیا میں کامیاب ہونے نہیں دیا جانا چاہئے۔

اگر دنیا کے ایک کونے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس مقام سے ہزاروں میل دُور رہنے والے عوام کا شدید ردعمل سامنے آتا ہے اور یہ لوگ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ دہشت گرد بھی اس ڈیجیٹل دنیا کا ناجائز طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے سے ہی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ نے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی اور داعش کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستانی نوجوانوں پر اثرانداز ہونے داعش سے ہر ممکنہ کوشش کی تھی، لیکن ہماری انٹلیجنس ایجنسیوں کے مطابق صرف مٹھی بھر نوجوانوں نے ہی داعش میں شمولیت اختیار کی ہے اور ان میں سے کئی نوجوان اپنے ارکان خاندان کے اصرار پر وطن واپس ہوچکے ہیں۔ ہندوستان، مسلمانوں کے تمام 73 فرقوں کا ملک ہے۔ یہاں ان کے آباء و اجداد کی جڑیں پیوست ہیں۔ اس سے وہ کسی کے ورغلانے سے اپنے مادرِ وطن سے غداری یا دشمنی نہیں کرسکتے۔ اس تین روزہ کانفرنس میں غیرقانونی ایمیگریشن اور سرحدی سلامتی، سائبر ایپس، سوشیل میڈیا اور دہشت گردی کے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر، قومی سلامتی مشیر اجئے ڈیول، سابق معتمد داخلہ جی کے پلائی بھی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں کئی بیرونی شخصیتیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔