میرٹھ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے اپنے تازہ تبصرہ کے ذریعہ ایک اور تنازعہ کھڑا کردیا۔ اُنھوں نے ہندو خواتین سے خواہش کی کہ کم از کم 4 بچے پیدا کریں۔ اُن کے اِس تبصرے پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی، اِس کا مضحکہ اُڑایا اور حکومت سے اِس بیان کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ تاہم بی جے پی نے اپنے پارٹی ایم پی کے خیالات سے لاتعلقی ظاہر کردی۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری شریکانت شرما نے کہا کہ ساکشی مہاراج کے ریمارکس ان کے شخصی خیالات ہیں اور پارٹی کے اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے بھی آج بھوبنیشور میں اس مسئلہ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ مہاراج کی ذاتی رائے ہے، پارٹی کا موقف نہیں۔ مہاراج نے کہا کہ ہم نے نعرہ ’’ہم دو ہمارے ایک‘‘ قبول کرلیا تھا لیکن اب بھی یہ غدار مطمئن نہیں ہیں۔ اُنھوں نے ایک اور نعرہ ’’ہم دو اور ہمارا…‘‘ دیا ہے۔ یہ لوگ لڑکی کی لڑکی سے اور لڑکے کی لڑکے سے شادی کی حمایت کررہے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے بھی یہی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں خواتین سے درخواست کرتا ہوں کہ کم از کم چار بچے پیدا کریں۔ ایک بچہ سادھوؤں اور سنیاسیوں کے حوالہ کردیں۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اِس لئے دوسرے بچے کو سرحد پر بھیج دیں۔
بھگوا لباس پہننے والے اوناؤ کے رکن پارلیمنٹ ایک مذہبی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ ساکشی قبل ازیں مہا تماگاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ’’محب وطن‘‘ قرار دیتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کرچکے ہیں۔ اُنھیں اپنے اِس تبصرہ پر پارلیمنٹ میں معذرت خواہی کیلئے مجبور ہونا پڑا تھا۔ ساکشی کے متنازعہ تبصرہ پر اپوزیشن نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ جنتادل (یو) نے سنگھ پریوار پر طنز کرتے ہوئے اِس کے قائدین سے خواہش کی کہ اِس مثال کی قیادت کریں۔ اگر ہندوستانی آبادی کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے تو وزیراعظم 24 گھنٹے کیوں خاموش رہتے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ، پارٹی صدر، وزیرفینانس اِس مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشک سنگھوی نے کہاکہ کیا یہی نئی آبادیاتی پالیسی ہے۔ قوم اِس سوال کا جواب چاہتی ہے۔ ہمیں اِس کا یقین ہے کہ اِس کا کوئی جواب نہیں آئے گا۔ جے ڈی (یو) قائد کے سی تیاگی نے کہاکہ قول اور عمل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔