’’ہر ہر مودی‘‘نعرے پر دوارکا کے سنت کی برہمی

احمدآباد ؍ فرخ آباد 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دوارکا پیٹھ کے سروپانند سرسوتی نے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی کی تائید میں ’’ہرہر مودی‘‘ نعرے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے شدید احتجاج کیا اور اُن سے مطالبہ کیا ہے کہ اِس قسم کے ’’ویکتی پوجا‘‘ (شخصیت پرستی) کے نعروں پر امتناع عائد کیا جائے۔ سمجھا جاتا ہے کہ شنکر آچاریہ کانگریس قائدین جیسے ڈگ وجئے سنگھ سے بہت قریب ہیں۔ وہ روایتی نعرے ’’ہرہر مہادیو‘‘ کے مودی کے لئے ترمیم کے ساتھ استعمال پر برہم ہیں۔ مودی کی انتخابی مہمات میں یہ نعرہ لگایا گیا ہے۔ اِس کے بارے میں علم ہونے پر سروپانند سرسوتی نے کل موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور اُن سے مطالبہ کیاکہ ایسی نعرہ بازی بند کردی جائے کیونکہ یہ لارڈ شیوا کی توہین ہے۔

ایک انسان کی پرستش کے مترادف اور ہندو دھرم کے خلاف ہے۔ سنت نے کہاکہ اُنھیں اُن کے عقیدت مندوں کے کئی ٹیلیفون کالس وصول ہوئے ہیں جو یہ نعرہ لگانے پر صدمہ کا شکار ہوگئے ہیں۔ موہن بھاگوت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیاکہ آر ایس ایس انسان پرستی کی سخت مخالف ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ ایسے نعرے بیجا جوش کا نتیجہ ہیں جو بعض حامیوں نے لگائے ہیں۔ یہ بی جے پی کی دانستہ کوشش نہیں ہے لیکن سروپانند سرسوتی بھاگوت کی اِس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر آر ایس ایس انسان پرستی کی مخالف ہے تو اُس نے ایسی سرگرمیاں روکنے کے لئے کچھ کیوں نہیں کیا۔ پہلے ہی دن سے مودی کی مخالفت کیوں نہیں کی۔ نعرے بازی سے بعض سیاسی پارٹیاں بھی برہم ہیں

اور اُنھوں نے اِس پر اعتراض کیا ہے۔ سروپانند نے کہاکہ عوام کا کہنا ہے کہ مودی کو کوئی بھی نہیں روک سکتا لیکن اگر ایسی سرگرمیاں جاری رہیں تو خدا اُن کو خود روک دے گا۔ اُنھوں نے چھتیس گڑھ میں مودی کو دیوتا بنانے کے واقعہ کی نشاندہی بھی کی اور کہاکہ چند نوجوان بی جے پی قائدین نے چھتیس گڑھ میں مندر سے شیولنگ ہٹاکر وہاں پر نریندر مودی کی تصویر نصب کردی ہے۔ اُنھیں ایسی شخصیت پرستی سے باز آجانا چاہئے۔ فرخ آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب نریندر مودی کی شان میں بی جے پی کی جانب سے ’’ہرہر مودی‘‘ کا نعرہ لگائے جانے کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ اِس کا نوٹ لے۔ سلمان خورشید نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم جمہوریت کا احترام کرتے ہیں لیکن خدا کی ہستی اِس سے بالاتر ہے۔

ہم الیکشن کمیشن سے خواہش کرتے ہیں کہ وہ بی جے پی کی اِس نعرہ بازی کا نوٹ لے۔ بی جے پی کے حامیوں نے ’’ہرہر مودی‘‘ ، ’’گھر گھر مودی‘‘ کا نعرہ ایجاد کیا ہے۔ اِس کا استعمال وسیع پیمانہ پر مودی کی انتخابی مہمات اور جلوسوں میں کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے ایک بی جے پی قائد کے بیان کا حوالہ دیا جنھوں نے کہا تھا کہ مودی کو وزیراعظم بننے سے خدا بھی نہیں روک سکتا، سلمان خورشید نے کہاکہ پارٹی ملک کی روایات فراموش کرچکی ہے جہاں خدا سے برتر کسی کو بھی نہیں سمجھا جاتا۔ ستپال مہاراج کے بی جے پی میں شامل ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے سلمان خورشید نے اِسے بدبختانہ قرار دیا اور کہاکہ بی جے پی میں عمر رسیدہ قائدین کو اُن کا مستحقہ احترام حاصل نہیں ہورہا ہے۔ ستپال مہاراج کے ساتھ ہی جو کچھ ہوگا ہم اِسے دیکھیں گے۔