کیا ٹی آر ایس کے ٹی وی چینل اور اخبار میں آندھرا افراد کی سرمایہ کاری نہیں؟: ریونت ریڈی
حیدرآباد /21 نومبر (این ایس ایس) تلنگانہ کے تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے آج چیف منسٹر سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آیا مؤخر الذکر (کے سی آر) ’’آپریشن بلیو اسٹار‘‘ کے معنی و مفہوم بھی جانتے ہیں؟۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی اگر اس طرح من مانی رویہ اختیار کریں گے تو انھیں آپریشن بلیو اسٹار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد آج تلنگانہ تلگودیشم لیجسلیچر پارٹی کے دفتر میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کلوا کنٹلہ چندر شیکھر راؤ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور اس بات پر پریشان اور خوف زدہ ہیں کہ وہ (ریونت ریڈی) ایوان میں کہیں کوئی انکشاف تو نہیں کریں گے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے مزید کہا کہ ’’مجھ سے خوف زدہ چیف منسٹر اب میرے ہی خلاف ایک نازیبا اور غلط مہم شروع کرچکے ہیں‘‘۔ انھوں نے سوال کیا کہ کے سی آر جو ہمیشہ خود کو تلنگانہ تحریک کا لیڈر قرار دیتے ہیں، آیا ان کے لئے ایسا کرنا صحیح ہوگا؟۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ایس کی ملکیت کے ٹی وی چینل اور اخبار میں کہاں سے سرمایہ کاری کی گئی ہے؟۔ یہ رقومات کہاں سے آئی ہیں؟۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ اس بات کا انکشاف کریں گے کہ توانائی پراجکٹس اور سیمنٹ کمپنیوں میں کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کے سی آر سے سوال کیا کہ ان کی مملوکہ کمپنیوں میں آندھرائی افراد کی سرمایہ کاری شامل نہیں ہے؟۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر سے یہ سوال بھی کیا کہ ’’کیا آپ ایوان میں ہمیں ڈی ایل ایف کے مسئلہ پر بات چیت کے لئے وقت نہیں دیں گے؟۔ اس ضمن میں آپ صرف یکطرفہ کارروائی کر رہے ہیں‘‘۔ انھوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ایوان میں اظہار خیال کا موقع دیا جائے۔