حیدرآباد 3 فبروری (سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں کی کارکردگی کے بارے میں عوامی تاثر بہتر نہیں۔ جب کبھی سرکاری دواخانے رجوع ہونے کی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے ’’میں نہیں آؤں گا بیٹا سرکاری دواخانہ‘‘۔ یہ بات چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہی اور طبی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنھوں نے آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ حیدرآباد کیمپس کا راجندر نگر میں سنگ بنیاد رکھا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت صحت و طبابت کے شعبہ پر سالانہ 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے، اس کے باوجود طبی خدمات اطمینان بخش نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں طبی سہولتیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ دواخانوں کو چلانے کے لئے کوئی ٹریننگ پروگرام منعقد نہیں کیا جاتا۔ انھوں نے شعبہ صحت و طبابت میں مناسب تبدیلیوں اور ساتھ ہی ساتھ طبی عملہ بشمول ڈاکٹرس کیلئے ٹریننگ پروگرامس منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنھوں نے ریاست تلنگانہ کو ایک مثالی مرکز صحت کے طور پر ترقی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اِس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر لکشما ریڈی ، وزیر ٹرانسپورٹ پی مہندر ریڈی اور دیگر موجود تھے۔