حیدرآباد 19 مارچ (راست) آل انڈیا مسلم فرنٹ کی جانب سے ڈوری کیس یعنی دفعہ 498
(A) تعزیرات ہند کے تحت بے جا جھوٹے مقدمات میں گرفتاری اور پولیس کی جانب سے غیر ضروری ہراسانی کے خلاف جدوجہد کا آغاز 7 اپریل 2012 سے کیا تھا کیونکہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ تھا۔ اس قانون کے مثبت نتائج کبھی بھی برآمد نہیں ہوئے بلکہ یہ قانون شوہر اور بیوی کیلئے وبال جان بن گیا۔ سپریم کورٹ نے مختلف گوشوں سے دفعہ 498(A) تعزیرات پر تنقیدوں اور بالخصوص آل انڈیا مسلم فرنٹ کی جانب سے مسلسل نمائندگی اور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججس کی تشویش کو اہمیت دیتے ہوئے اس قانون کو چند ماہ قبل بے اثر بنادیا اور فیصلہ صادر کیا۔ اس سلسلہ میں ایک کانفرنس بعنوان ’’مظلوم شوہروں اور اُن کے رشتہ داروں کی فریاد کا اثر‘‘ 21 مارچ کو 11 بجے دن اُردو گھر مغلپورہ میں زیرصدارت الحاج محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ صدر فرنٹ منعقد ہوگی جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تفصیلی صراحت کی جائے گی۔