’’شہر پر گورنر کو خصوصی اختیارات ناقابل قبول‘‘

اسپیکر لوک سبھا کو آج تحریک التواء پیش کرنے کی ہدایت ٹی آر ایس ارکان پارلیمان سے کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔ 10 ؍ اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر ریاست تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی صورت میں شہر حیدرآباد و سائبرآباد کے لئے گورنر کو دیئے گئے اختیارات کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گااور گورنر کو اختیارات دیتے ہوئے ان کی بڑھائی کو ہم پر چلانے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ آج یہاں ارکان پارلیمان تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ساتھ گورنر کو دیئے گئے اختیارات کے مسئلہ پر لوک سبھا میں بحث کا موضوع بنانے کیلئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو قطعیت دینے کیلئے اجلاس طلب کر کے مسٹر کے چندر شیکھرراؤ سے اجلاس میں شریک ارکان پارلیمان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو موصولہ مکتوب اور اس کے جواب میں تلنگانہ حکومت کے روانہ کردہ مکتوب پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ۔ اور صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی و چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ اپنے ارکان پارلیمان کو اس بات کی سخت ہدایت دی کہ وہ بہر صورت کل یعنی 11 ؍ اگست کو اس مسئلہ پر ریاست میں ہنگامہ کھڑا کریں ۔ اور جمہوری انداز میں مرکزی حکومت کے ساتھ زبردست جدوجہد کرنے ‘ ضرورت پڑنے پر قانونی جنگ لڑکے کیلئے بھی تیار رہنے سے متعلق ارکان پارلیمان کو ہدایت دی۔ اور کہا کہ پارلیمنٹ میں اپنے ہم خیال جماعتوں کے قائدین سے بھرپور مدد و تعاون حاصل کرنے کے اقدامات کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان پارلیمان ٹی آر ایس کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں پارلیمنٹ میں 11 اگست کو اس مسئلہ پر اسپیکر کو تحریک التواء پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے ارکان پارلیمان کو لوک سبھا میں جے ڈی یو‘ ترنمول کانگریس کا تعاون حاصل کرنے کی ہدایت دیں اور تحریک التواء پر بحث کا موقعہ فراہم نہ کرنے کی صورت میں یو ڈیم کے پاس پہنچ کر زبردست احتجاج منظم کرنے کی سخت ہدایات دیں ۔ چیف منسٹر ارکان پارلیمان کو واقف کروایا کہ انہوں نے اس مسئلہ پر ٹاملناڈو ‘ اڈیشہ اور مہاراشٹرا حکومت کے چیف منسٹروں سے بھی بات چیت کی اور انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کا تیقن دیا ۔ ریاستوں کے حقوق کو ہڑپنے کے اقدامات کے خلاف متحدہ طور پر جدوجہد کرنے کیلئے دیگر ریاستوں کے چیف منسٹروں نے بھی واضح تیقن دیا ہے اور کہا کہ بہت جلد ہم خیال چیف منسٹروں کا ایک اہم اجلاس بھی طلب کریں گے ۔ راجیہ سبھا میں بھی اس مسئلہ پر پریشان کن صورتحال پیدا کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا مسٹر کے چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیا ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ محض آندھراپردیش ریاست کے بعض قائدین کے دباؤ کی وجہ سے ہی مرکزی حکومت نے یہ اقدامات کئے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے انتہائی سخت الفاظ میں کہا کہ خواہ کسی بھی قائدین کا مرکزی قائدین پر دباؤ کیوں نہ ہو ۔ ریاست کے حقوق کو ہڑپنے کی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا بلکہ جمہوری انداز میں عدلیہ سے رجوع ہونے سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ریاست دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل عملی میں لائی جاچکی ہے ۔ ارکان پارلیمان ٹی آر ایس نے بتایا جاتا ہے کہ مسٹر کے چندراشیکھرراؤ کو اس بات سے واقف کروایا کہ بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت اپنی مواقف نہ رہنے والی ریاستوں حکومتوں کے خلاف اقدامات کرنے کے اشارے دے رہی ہے ۔ ایسی صورت حال میں متحدہ طور پر جدوجہد کرنے سے ہرگز گریز نہیں کیا جائیگا ۔