حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے پہلے صدر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مسٹر پی لکشمیا کا کانگریس قائدین نے شاندار خیرمقدم کیا۔ مسٹر پی لکشمیا نے کہاکہ دو ارکان پارلیمنٹ رکھنے والی ٹی آر ایس سے تلنگانہ تشکیل نہیں پایا جبکہ سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے انضمام یا پارٹی کی تجویز وصول ہوتی ہے تو اس پر غور کیا جائے گا۔ ایرپورٹ پر سابق وزیر ڈی ناگیندر کے علاوہ سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے مسٹر پی لکشمیا کے ساتھ کارگذار صدر مسٹر اتم کمار ریڈی کا شاندار خیرمقدم کیا۔
مسٹر پنالہ لکشمیا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ 13مارچ کو حیدرآباد پہنچ رہے ہیں اور 15مارچ کی شام وہ دہلی روانہ ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کل سہ پہر4بجے الیکشن کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوگا جس میں اسمبلی اور لوک سبھا کے امیدواروں کی فہرست تیار کی جائے گی اورسیاسی اتحاد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ٹی آر ایس سے اتحاد کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹی آر ایس اتحاد کرنے یا انضمام کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے تو اس پر کانگریس پارٹی ضرور غور کرے گی۔ سربراہ ٹی آر ایس کی جانب سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے اور تلنگانہ کی تعمیر نو کرنے کا دعویٰ کرنے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پی لکشمیا نے کہاکہ 2ارکان پارلیمنٹ رکھنے والی ٹی آر ایس کیا علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دے سکتی ہے، کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی ہے اور تلنگانہ کے عوام اس حقیقت سے واقف ہیں۔
تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کافی مستحکم ہے اور ہم سیاسی اتحاد کی پرواہ کئے بغیر کانگریس پارٹی کو تمام حلقوں میں متحد کرنے کا کام کریں گے، رہی بات سیاسی اتحاد کی تو کانگریس ہائی کمان کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے قبول کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کے وعدے سے انحراف کیا ہے تاہم سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے وعدہ کو پورا کیا ہے۔ گاندھی بھون میں مرکزی مملکتی وزیر مسٹر بلرام نائیک،، کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ مسٹر مدھو گوڑ یشکی اور ایس راجیا کے علاوہ سابق وزیر مسٹر محمد علی شبیر، صدر نشین سٹ ون مسٹر محمد مقصود احمد، صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد سراج الدین نے خیرمقدم کیا۔