ویانا۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریائی دارالحکومت ویانا میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے تمام اعلیٰ قائدین نے کہا کہ نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کی جانب سے برپا کی جانے والی دہشت گردی اور تشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دولت اسلامیہ دراصل اسلام دشمن تنظیم ہے۔ شاہ عبداللہ انٹرنیشنل سنٹر برائے بین مذاہب و بین ثقافتی مذاکرات کی جانب سے منعقدہ اس کانفرنس میں تمام شرکاء نے داعش کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ اس بین مذاہب ادارہ کا ،خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے اکتوبر 2011ء میں قیام عمل میں لایا تھا جس کا مقصد بین عقائد کے درمیان بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل عبداللہ ال ترکی نے کہا کہ بعض تنظیمیں اسلام سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہوئے جہاد کے نام پر بعض ایسی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے ہم تمام کو داعش کی کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہئے کیونکہ دولت اسلامیہ ایک اسلام دشمن تنظیم کی طرح کام کررہی ہے۔ اس کی کارروائیاں اسلام کی تعلیمات کے مغائر ہے۔ انہوں نے سیمینار میں شریک مصر، لبنان، اور
اُردن کے مفتی اعظموں کے بشمول دانشواران اور مفکرین اسلام کے کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کانفرنس میں کئی گرجا گھروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ امریکی یہودی کمیٹی کے نمائندے اور سفارت کار بھی موجود تھے۔ سعودی عرب کے وزارت خارجی اُمور کے نذیر مدنی نے مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے اور تشدد برپا کرنے کو افسوسناک اور خطرناک رجحان قرار دیا اور کہا کہ یہ لوگ اسلام کے خلاف کام کررہے ہیں۔ ہر ایک کو ہلاک اور تباہ کررہے ہیں۔ مذہب کے نام پر تشدد کے خلاف متحد ہونے کے زیرعنوان منعقدہ سیمینار میں تمام مقررین نے ایک ہی پیام دیا کہ ساری دنیا کو ایسی دہشت گردی کے خلاف کمربستہ ہونا چاہئے۔ سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو رِجھایا جارہا ہے اور انہیں جہاد کے نام پر اُکساکر دہشت گرد بنایا جارہا ہے۔ نذر بن عبید مدنی نے تمام اقوام پر زور دیا کہ وہ اسلام کے تعلق سے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ جنرل سیکریٹری بین مذاہب و عقائد تنظیم فیصل بن معمر نے مذہب کے نام پر تشدد کرنے والوں کا سامنا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔