’’تلنگانہ بِل کی موجودہ شکل کو بی جے پی تائید ناممکن‘‘

حیدرآباد 11 فبروری (این ایس ایس) کانگریس پارٹی کو اگرچہ اُمید ہے کہ تلنگانہ بِل پر بی جے پی کی تائید حاصل ہوگی لیکن اب اس کو کچھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ باور کیا جاتا ہے کہ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے کہہ دیا ہے کہ ’’بی جے پی تلنگانہ بِل کی موجودہ حالت میں ہرگز تائید نہیں کرے گی‘‘۔ سمجھا جاتا ہے کہ اڈوانی نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی کے رویہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے قائدین نے اِس بل کو بی جے پی کی تائید کی درخواست کے ساتھ آج ایل کے اڈوانی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی سے ملاقات کی اور خواہش کی کہ پارلیمنٹ میں بِل کی منظوری کے لئے بھرپور تائید کی جائے۔

اڈوانی سے ملاقات کے بعد تلگودیشم قائدین نے کہاکہ اڈوانی نے اُنھیں بتایا ہے کہ تلنگانہ بِل کو اس کی موجودہ شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے تو بی جے پی ہرگز اس کی تائید نہیں کرے گی۔ اڈوانی نے کانگریس کے موقف پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکمراں جماعت اس نازک مسئلہ پر ڈرامہ بازی کررہی ہے۔ تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کے ایک لیڈر دیاکر راؤ نے کہاکہ اڈوانی نے یاد دلایا کہ بی جے پی بہرصورت علیحدہ تلنگانہ کے قیام کے عہد کی پابند ہے لیکن جس انداز میں تلنگانہ بِل پیش کیا جارہا ہے بی جے پی اس کی تائید میں دشواری محسوس کرتی ہے۔ ارون جیٹلی نے کہاکہ تلنگانہ بِل پر یو پی اے کے ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہاکہ یو پی اے حکومت تلنگانہ کے مسئلہ کو طوالت دے رہی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے موجودہ سیشن اور حتیٰ کہ اپنی میعاد کے اختتام تک اس مسئلہ کو لیت و لعل کا شکار بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ ارون جیٹلی نے یو پی اے حکومت سے مطالبہ کیاکہ تلنگانہ بِل کو فی الفور پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے کیونکہ رواں سیشن کے اختتام کیلئے اب بمشکل چھ دن باقی رہ گئے ہیں۔

اس صورت میں پارلیمانی سیشن اور یو پی اے حکمرانی کے دوران اس مسئلہ کی یکسوئی مشکوک نظر آتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی علیحدہ تلنگانہ کے قیام کی متمنی ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے فی الفور بِِل کی پیشکشی اور اجلاس میں توسیع کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی قائدین اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ملک میں اُن کے حق میں لہر چل رہی ہے اور اِس مرحلہ پر وہ کانگریس کو قیام تلنگانہ کا کریڈٹ دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔