’’تاج محل کو بھی وقف جائیداد قرار دیا جائے ‘‘: اعظم خاں

لکھنؤ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی لیڈر اور اُترپردیش کے وزیر اقلیتی اُمور اعظم خاں نے آج مطالبہ کیا کہ دنیا کے عجائب میں سے ایک ’’تاج محل‘‘ کو بھی ریاست کی وقف جائیداد قرار دیا جائے۔ اعظم خاں نے جو یوپی کے وزیر اوقاف بھی ہیں، 13 نومبر کو بھی ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل کو ایک وقف جائیداد قرار دینا چاہئے اور اس کی ذمہ داری ان کے تفویض کی جائے۔ اعظم خاں کے اس مطالبہ کی لکھنؤ عید گاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محل نے بھی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اس 17 ویں صدی کے مقبرہ میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ اعظم خاں کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ یوپی کے وزیر کو عوام کے اندر غیرضروری غلط فہمیاں نہیں پیدا کرنی چاہئے۔ ان کے تبصروں سے عوام گمراہ ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی ترجمان شاہ نواز حسین نے کہا کہ اعظم خاں اپنے اس طرح کے بیانات کے ذریعہ غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں۔ تاج محل کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ اعظم خاں نے کہا ہے کہ تاج محل دو مسلمانوں کا مقبرہ ہے اور اس کو مرکزی وقف بورڈ کے حوالے کیا جانا چاہئے۔