نئی دہلی 21 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پولیس اور سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ جموں و کشمیر ‘ شمال مشرق اور نکسلائیٹس سے متاثرہ علاقوں میں یہ صورتحال تشویش ناک ہے جہاں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے جیسے قوانین کے بیجا استعمال کی شکایات عام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ دستور ہند میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کی نفی کی گئی ہے لیکن بیشتر معاملات میں ایسا ہو رہا ہے ۔ جناب حامد انصاری شہریوں اور مملکت کے ضابطے کے موضوع پر آٹھواں تارکنڈے میموریل لیکچر دے رہے
تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ سنگین حقوق انسانی خلاف ورزیاں مملکت اور شہریوں کے معاملہ میں پولیس اور سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے ہونے والے مظالم ہیں۔ جن میں ماورائے عدالت ہلاکتیں ‘ تحویل میں ہونے والی اموات ‘ ایذا رسانی ‘ غیر ضروری اور بہیمانہ ہراست اور حکومت کی تمام سطحوں پر کرپشن کی ہیں۔ ان سب کے نتیجہ میں انصاف کی نفی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات زیادہ تر داخلی اختلاف کے علاقوں جیسے جموںو کشمیر ‘ شمال مشرق اور نکسلائیٹس کے اثر والے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے جیسے قوانین کے بیجا استعمال کی سنگین شکایتیں ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں کے قانون اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے بیجا استعمال کے بھی الزامات ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں مسلسل تشدد اور امتیاز کا نشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ دستور اور قانون میں انہیں ضمانتیں حاصل ہیں۔ منظم انداز میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے اور بیشتر معاملات میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ خبردار کرتے ہوئے کہ سماجی کشیدگیوں کے نتیجہ میں ترقیاتی ایجنڈہ متاثر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ شہریوں کے روایتی حقوق کے مابین توازن کی ضرورت ہے اور ماحولیاتی مقاصد اور معاشی مقاصد کو بھی ان کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک تیزی سے معاشی ارتقا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔