رانا گھاٹ ، کولکاتا ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک 71 سالہ راہبہ کو مبینہ طور پر آج کی ابتدائی ساعتوں میں مغربی بنگال کے ضلع ناڈیا کے ایک کانونٹ کے اندرون اجتماعی عصمت ریزی کا شکار بنایا گیا، جس پر احتجاجوں کا سلسلہ چھِڑ گیا۔ راناگھاٹ سب ڈیویژن کے مقامی کانونٹ اسکول کے حکام کے مطابق تین تا چار افراد رات دیر گئے تقریباً 12:30 بجے بلڈنگ میں میں گھس پڑے اور راہبہ کے منہ میں کپڑا ٹھونستے ہوئے اس کا ریپ کیا۔ وہ لوگ اس نن کی عصمت ریزی کے بعد الماری کے لاکر سے 12 لاکھ روپئے بھی لے کر چلتے بنے۔ صبح میں جب یہ معاملہ منظرعام پر آیا تب اسکول ہاسٹل کے ذمہ داروں کی جانب سے متاثرہ نن کو راناگھاٹ ہاسپٹل لیجایا گیا۔ چیف منسٹر ممتا بنرجی نے اس واقعہ کی سی آئی ڈی تحقیقات کا حکم دیا اور خاطیوں کے خلاف ’’عاجلانہ‘‘ اور ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کا وعدہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر مذہبی سیاست چلائی جارہی ہے اور یہ کہ مذہبی جنون مائل بہ عروج ہے۔ انھوں نے کہا، ’’ ہم اس واقعہ کی پُرزور مذہب کرتے ہیں جو راناگھاٹ کانونٹ میں پیش آیا‘‘۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا: ’’ہم نے سی آئی ڈی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ یہ ایجنسی اس خوفناک جرم کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ خاطیوں کے خلاف تیز، سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔‘‘ کانونٹ کی عمارت کے سی سی ٹی وی فوٹیج نے تین اشخاص دکھائے جو مشتبہ پر عصمت ریزی کے مرتکبین ہیں۔ پولیس تحقیقات کررہی ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پی بی سلیم جو فوری مقام واردات پہنچے، انھوں نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ نفرت انگیز حرکت ہے اور پولیس نے اس گینگ کے ممبروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ ڈی ایم نے کہا، ’’ہمیں اس واقعہ کی مکمل تصویر ہنوز حاصل ہونا ہے‘‘۔
جیسے ہی یہ خبر بستی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، اسٹوڈنٹس کے برہم سرپرستوں نے دوپہر 12 بجے سے اہم این ایچ 34 اور سیالڈہ۔ راناگھاٹ ریل ٹریکس پر راستہ روک دیا۔ بعدازاں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ ساری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انھوں نے کولکاتا کے آرچ بشپ تھامس ڈی سوزا سے دو مرتبہ بات کرتے ہوئے انھیں عاجلانہ تحقیقات کا یقین دلایا۔ راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک او برین نے کہا کہ وہ دن بھر سی جے ایم، دہلی کے ننوں سے رابطے میں رہے اور آرچ بشپ سے کئی بار بات کرچکے ہیں۔ مغربی بنگال کے ریاستی وزیر شہری ترقی فرہاد حکیم نے اسے ’’انسانیت پر حملہ‘‘ قرار دیا اور اسے سنگھ پریوار کے ’گھر واپسی‘ پروگرام سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔ انھوں نے کہا، ’’مذہبی جنون ملک بھر میں پیدا کردیا گیا ہے۔ مختلف جگہوں پر مختلف چرچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عوام کو مذہبی طور پر مشتعل کیا جارہا ہے‘‘۔ بی جے پی لیڈر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے جہاں اس واقعہ کی مذمت کی، وہیں کہا کہ یہ اس ریاست میں لا اینڈ آرڈر صورتحال کا عکاس ہے۔