۔1980ء کی بغاوت میں عصمت ریزی کے واقعات پر جنوبی کوریا کی معذرت خواہی

سیئول۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے آج برسوں کی خاموشی توڑتے ہوئے 1980ء میں ہوئی بغاوت کے دوران مارشل لاء فوج کے ذریعہ خواتین کی عصمت ریزی جن میں بعض عمر رسیدہ خواتین بھی شامل تھیں، کئے جانے پر معذرت خواہی کی ہے۔ وزیر دفاع جیونگ کیونگ ۔ ڈو نے اس سلسلے میں ایک عوامی معذرت خواہی کا اجراء کیا ہے جہاں انہوں نے عصمت ریزی کا شکار خواتین کے دُکھ اور ہمیشہ ہرے رہنے والے زخموں کو مرہم لگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں خواتین کو جن ناگفتہ بہ حالات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اس کے لئے ہم معذرت خواہ ہیں۔ یاد رہے کہ 1980ء میں اس وقت کے فوجی جنرل چونگ۔ ڈو۔ ہوان نے حکومت کے خلاف بغاوت کردی تھی اور احتجاج کو کچلنے کیلئے فوجیوں نے ایک کریک ڈاؤن کے دوران معصوم اور بے قصورخواتین کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ بغاوت کے دوران 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کو برسوں تک مخفی رکھا گیا کیونکہ عصمت ریزی کا شکار خواتین بھی اس معاملے میں لب کشائی سے خوف زدہ تھیں لیکن موجودہ صدر مون جے ان کے برسراقتدار آتے ہی یہاں کا سیاسی اور فوجی ماحول بالکل تبدیل ہوگیا اور انہوں نے 1980ء کی عصمت ریزی کے واقعات کو منظر عام پر لانے کا عزم کرلیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج کل خواتین کے خلاف کی جانے والی جنسی زیادتی کے خلاف ’’می ٹو‘‘ مہم کے ذریعہ بھی ان مردوں کو منظر عام پر لایا جارہا ہے جو اس میں ملوث رہے۔ فلمی صنعت، صحافت اور دیگر شعبوں میں جب ایسے گھناؤنے واقعات سامنے آرہے ہیں تو بھلا فوج اس سے مستثنیٰ کیوں رہتی۔ فوجیوں سے بھی ایسے لاتعداد جنسی جرائم کئے ہیں لیکن معذرت خواہی اور معافی سے حالات کو ایک بار پھر بدلا جاسکتا ہے۔