فوڈ سیکوریٹی کارڈس کی تقسیم ، سوشیل ویلفیر ہاسٹلوں کے علاوہ حاملہ خواتین و بچوں کو دوپہر کا کھانا : ٹی ہریش راؤ
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ یکم جنوری سے تلنگانہ میں تین اہم فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستحق غریب خاندانوں کیلئے فوڈ سیکوریٹی کارڈس کی تقسیم، سوشیل ویلفیر ہاسٹل میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم اور حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کیلئے دوپہر کے کھانے کی اسکیم کا آغاز کیا جائے گا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کو ترجیح دے رہی ہے اور یکم جنوری سے تین نئی اسکیمات کے آغاز سے لاکھوں غریب خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فلاحی اسکیمات کے بارے میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت نے نئی اسکیمات کے آغاز کے سلسلہ میں عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔ ہریش راؤ کے مطابق فوڈ سیکوریٹی کارڈ کے تحت غریب خاندانوں کے افراد میں فی کس 6 کیلو چاول سربراہ کیا جائے گا۔ سابق میں چاول کی مقدار کم تھی اور ٹی آر ایس حکومت نے اس میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ فوڈ سیکوریٹی کارڈس کیلئے درخواستوں کی جانچ کا کام مکمل ہوچکا ہے اور یکم جنوری سے کارڈس اور چاول کی تقسیم کا آغاز ہوجائے گا ۔ سوشیل ویلفیر ہاسٹلس میں غیر معیاری کھانے کی سربراہی کی شکایات عام تھی جس پر حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے معیاری چاول کی سربراہی کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست بھر کے آنگن واڑی مراکز پر حاملہ خواتین کیلئے دوپہر کے کھانے کی اسکیم شروع کی جارہی ہے۔ ریاست کے 3500 مراکز پر اس اسکیم پر عمل آوری کی جائے گی جس میں حاملہ خواتین کے علاوہ ان کے بچوں کو بھی دوپہر کا کھانا سربراہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں مخصوص مراکز پر ہی 16 دن کیلئے یہ سہولت حاصل تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے مکمل ایک ماہ روزآنہ اس اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہاسٹلس کے طلباء کے لئے کاسمیٹک چارجس کو 50 روپئے سے بڑھاکر ماہانہ 100 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس سے طلباء صابن اور دیگر ضروری سامان کی خریدی کر پا ئیں گے۔ اس سلسلہ میں حکومت جلد ہی جی او جاری کرے گی۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ فلاحی اسکیمات کے علاوہ تلنگانہ میں برقی اور پانی کے مسئلہ کی مستقل یکسوئی کیلئے حکومت سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال جون تک 20 فیصد تالابوں کے تحفظ کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی اور زرعی اغراض کیلئے سربراہی آب کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے حکومت نے جھیلوں اور تالابوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 20 فیصد جھیلوں اور تالابوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ کاکتیہ مشن نامی اس اسکیم کے تحت ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے اور ٹنڈرس کا عمل ای پروکیورمنٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ٹنڈرس کی منظوری میں بے قاعدگیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں کنٹراکٹرس کو صرف 10 لاکھ روپئے مالیاتی کام منظور کئے جاتے تھے، حکومت نے اس رقم کو بڑھاکر 50 لاکھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آبپاشی سہولت کیلئے تالابوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 46000 چھوٹے تالابوں اور جھیلوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں پہلے مرحلہ میں 9000 تالابوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر فینانس ای راجندر اور وزیر پاسپورٹ مہیندر ریڈی نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اس اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔