لکھنو / گوہاٹی ۔ 19 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 63 ہوگئی جبکہ آج ریاست میں مزید 15 اموات کی اطلاع ملی۔ کئی دریاؤں نے اپنے کنارے توڑدیئے جس کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ ریاستی وزیر آبپاشی شیوپال یادو نے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی سروے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ پانی اتر رہا ہے لیکن اب بھی کئی مقامات پر دریا کے کنارے ساکن افراد کیلئے خطرہ برقرار ہے۔ آج ایک خاتون کی نعش جو سیلابی پانی میں بہہ گئی تھی، دستیاب ہوئی ہے۔ ساگڑی تحصیل کے 80 دیہاتوں کے 60 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ 12 طبی ٹیمیں اور 4 ایمبولنس گاڑیاں سیلاب زدہ علاقوں میں عوام کے علاج کیلئے تعینات کی گئی ہیں ۔ موری گاؤں اور گوہاٹی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آسام میں بحیثیت مجموعی سیلاب کی صورتحال اب بھی سنگین ہے۔ دریائے برہم پتر میں سیلاب آجانے سے 100 دیہات زیر آب آگئے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گینڈوں کے محفوظ مسکن پوبی تورا میں بھی سیلاب آگیا ہے۔ دریاؤں کی سطح آب میں اضافہ سے کئی دیہات زیر آب ہیں۔ بدترین متاثرہ ضلع لکھم پور میں دریائے برہم پتر کی معاون دریاؤں کی سطح آب میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے 100 سے زیادہ دیہات متاثر ہوگئے ہیں۔
سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوگئی
پٹنہ ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بہار میں آئے سیلاب میں ایک اور شخص کی جان لے لی ہے اور اس طرح پٹنہ ضلع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے۔ تاہم ندیوں میں آبی سطح میں اب کمی دیکھی جارہی ہے۔ گذشتہ رات پٹنہ کے دیہی علاقہ گھوشوری میں ایک شخص سیلاب کے پانی میں بہہ گیا تھا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ (ڈی ایم ڈی) کے جوائنٹ سکریٹری سنیل کمار نے کہا کہ گذشتہ رات ایک اور شخص کے پانی میں بہہ جانے کے بعد سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے لیکن آج صبح ندیوں میں پانی کی سطح میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ 9 این ڈی آر ایف بٹالین کے کمانڈنٹ وجئے سنہا نے بھی کہا ہیکہ مظفرپور میں بھاگمتی ندی میں بھی پانی کی سطح میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ ڈی ایم ڈی کے جوائنٹ سکریٹری نے مزید کہا ہیکہ سیلاب کا پانی پٹنہ سے لیکر قومی شاہراہ 30 پر بھی پہنچ چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے بموجب بازآباد کاری اور تخلیہ کا عمل بہار کے 13 ضلعوں میں جاری ہے جو سیلاب کی زد میں ہیں۔ کمار نے کہا کہ مختلف مقامات میں قائم کردہ 36 ریلیف کیمپوں میں 13,111 افراد کو تخلیہ کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر پہنچادیا گیا ہے۔ سنہا کے بموجب 600 سے زائد افراد تخلیہ اور بازآباد کاری میں مشغول ہیں۔