لکھنو۔10اگست( سیاست ڈاٹ کام) رکھشا بندھن جیسے بھائی بہن کے مقدس رشتے والے تہوار کو بھی آر ایس ایس والوں نے اس سال فرقہ وارانہ منافرت کا تہوار بنا دیا ہے ۔ اس مرتبہ آر ایس ایس نے محض شرارت میں مغربی یو پی جہاں گذشتہ دنوں بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوچکیہ یں وہاں جو راکھیاں تقسیم کرائی ہیں اس میں لکھا ہے کہ ’’ جہاد سے محبت کرو‘‘ یعنی مسلمانوں سے جہاد کر کے ان کو نکال باہر کرو۔ رکھشا بندھن میں ہزاروں مسلم لڑکیاں اپنے منھ بھولے ہندو بھائیوں کو راکھیاں باندھتی ہیں اور ہندو بھائی ان کو اس لئے اپنی حیثیت سے رقوم بھی دیتے ہیں ۔ یہ روایت خاصی پرانی چلی آرہی ہیں لیکن اس مرتبہ آر ایس ایس کی راکھیوں نے مغربی یو پی کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی حفاظت کرنے کا عہد کریں ۔
ایسی راکھیاں کم سے کم دس لاکھ بانٹی گئی ہیں ۔ راکھیاں مسلم بہنوں سے نہ بندھوانے اور مغربی یو پی کے فرقہ وارانہ فسادات کا بدلہ لینے کے لئے اکسایا گیا ہے ۔ رکھشا بندھن کے تہوار کو ہندو لڑکیوں کے تحفظ اور میرٹھ میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی اور تبدیلی مذہب کے ساتھ جوڑ کر بھی دیکھا جارہا ہے ۔ آر ایس ایس کی اس شرانگیزی کے باوجود پوری ریاست خاص طور پر راجدھانی لکھنو میں رکھشا بندھن کی خریداری پورے زور و شور سے کی جارہی ہے ۔ بازاروں میں ہر طرف رونق ہی رونق نظر آرہی ہے ۔