لکھنو۔13ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کے ضلع جلاؤن میں ایک فلائی اوور کی تعمیر کے سلسلہ میں مذہبی ڈھانچوں کی منتقلی کیلئے ہندو اورمسلمان دونوں مذاہب کے افراد نے مقامی انتظامیہ کی مدد کی ۔ یہ معاملہ چودہ سال سے زیرالتواء تھا ‘ ان مذہبی ڈھانچوں میں دو منادر ‘ سات مزاریں اور ایک مسجد کو دوسرے مقام پر منتقل کردیا گیا اور اس کے علاوہ ایک درگاہ شریف کی دیوار کو بھی منہدم کردیا گیا تاکہ فلائی اوور کی تعمیر کیلئے رکاوٹ دور ہوسکے ۔ جلاؤن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر اروند ترویدی نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانپور‘ جھانسی شاہراہ پر جو 242-244 کلومیٹر رقبہ پر مشتمل ہے جس کو کلپی کھنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے ‘ ٹریفک بہاؤ کو آسان بنانے کیلئے دیڑھ کلومیٹر طویل ایک فلائی اوور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن 5.5 میٹر کی سرویس روڈ دونوں جانب تعمیر کرنے ( این ایس اے آئی ) کو مشکلات درپیش تھیں کیونکہ دونوں جانب دو منادر ‘ سات مزاریں ‘ ایک مسجد واقع تھی جو 14 سال سے زیرالتواء تھیں اور اس سلسلہ میں مقامی انتظامیہ اور پولیس نے دونوں ہندو اور مسلم دعویداروں سے بات چیت کی بالآخر دونوں فرقوں کے افراد نے تہہ کرلیا کہ ترقی کیلئے وہ خود اپنے اپنے مذہبی ڈھانچوں کو منتقل کردیں گے ۔ چنانچہ اس کام کو 8ستمبر کو انجام دیا گیا ۔ پہلے ایک شیو مندر کو منتقل کردیا گیا ۔ پہلے عمارت کی تعمیر ہوگی پھر اس کے بعد مورتی اور درگاہ دونوں کو بازو بازو منتقل کردیا جائیگا ‘ تاکہ دونوں بازو واقع ہونے سے ہندو مسلم یکجہتی کی یاد تازہ ہوجائے گی ۔ مسٹر ترویدی نے کہا کہ گذشتہ پانچ چھ سال میں تقریباً 100افراد بشمول اسکولی بچے اس روڈ پر حادثہ کا شکار ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ سات مزاریں ‘ ایک مسجد کو بھی منتقل کردیا گیا اور اس سارے مہم کو ’ آپریشن سہیوگ ‘‘ کا نام دیا گیا کیونکہ اس میں ہندو اور مسلم دونوں کا تعاون رہا اور یہ بھی طئے کیا گیا کہ سرویس روڈ کے احاطہ میں ایک قدیم مزار کو جوں کا توں باقی رکھا جائیگا ۔