یو پی اسمبلی میں ٹرین حادثہ مسئلہ پر بہوجن سماج پارٹی کا ہنگامہ

لکھنو 20 مارچ(سیاست ڈاٹ کام ) یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ضلع رائے بریلی کے علاقہ باچڑا وان میں المناک ٹرین حادثہ کے بعد بروقت کارروائی نہیں کی‘ بہوجن سماج پارٹی کے ارکان نے یہ مسئلہ اتر پردیش اسمبلی میں اٹھایا ۔ آج کیلئے ایوان کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا قائد اپوزیشن بی ایس پی کے سوامی پرساد موریا نے یہ مسئلہ اٹھایا اور ایوان کو المناک ٹرین حادثہ کی اطلاع دی ۔ موریا نے کہا کہ جب مجھے اس حادثہ کی اطلاع ملی تو میں نے پرنسپال سکریٹری (داخلہ) کو اس کی اطلاع دی اور دونوں ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مقام حادثہ پر موجود نہیں تھے ۔ انہیں اطلاع ملی کہ دونوں عہدیدار رخصت پر ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سنگین معاملے پر کس قدر سنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی اطلاع دی گئی کہ چیف منسٹر اکھیلش یادو حادثہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ انہیں جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر برائے اغذایہ و شہری سربراہی رگھو راج پرتاب سنگھ عرف راجہ بھیا نے کہا کہ چیف منسٹر نے نے محکمہ صحت اور دیگر محکموں کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری مدد فراہم کی جائے ۔ ایمبولنس گاڑیاں قریبی اضلاع بشمول لکھنو سے مقام حادثہ پر فوری پہنچ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ بروقت تھا ۔ اس حادثہ میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور تقریبا 150 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ انجن اور دہرہ دون ۔ وراناسی جنتا ایکسپریس کے دو ڈبے پٹری سے اتر گئے ۔ یہ واقعہ باچڑا وان ریلوے اسٹیشن ضلع رائے بریلی میں آج پیش آیا ۔ حادثہ میں مزید ہلاکتیں بھی ممکن ہے ۔ ڈیویژنل کمشنر لکھنو مہیش گپتا نے کہا کہ یہ حادثہ باچڑہ وان ریلوے اسٹیشن کے قریب 9.30 بجے دن پیش آیا ۔ یہ علاقہ ریاستی دارالحکومت لکھنو سے تقریبا 50 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔