نئی دہلی ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام) : عام آدمی پارٹی نے داخلی طور پر بڑھتے انتشار پر قابو پانے کے لیے آج پارٹی کی تنظیم جدید کے ذریعہ ناراضگیاں و اختلافات دور کرنے پر توجہ دی ہے ۔ اپنے سینئیر قائدین یوگیندر یادو اور شاذیہ علمی کے استعفیٰ مسترد کردئیے ۔ جنہوں نے اروند کجریوال پر تنقید کی تھی کہ پارٹی میں داخلی جمہوریت کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ پارٹی کے قومی عاملہ اجلاس کے دوسرے دن اختتام پر اعلان کیا گیا کہ پارٹی ان تمام سینئیر قائدین کے استعفیٰ مسترد کررہی ہے
جنہوں نے پارٹی قیادت پر ناراضگی ظاہر کر کے استعفیٰ دیا تھا ۔ عام آدمی پارٹی کے سینئیر لیڈر پرشانت بھوشن نے کہا کہ ان استعفوں کو متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا ۔ تمام اختلافات کو ’ خوشگوار طریقہ ‘ سے حل کرلیا جائے گا ۔ یوگیندر یادو نے اروند کجریوال پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ذاتی مفادات کی پوجا کررہے ہیں ۔ اپنے اطراف خوشامد افراد کو جمع کررہے ہیں جب کہ شاذیہ علمی نے یہ کہتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دیا تھا کہ سابق چیف منسٹر دہلی کے اطراف جمع چمچے ہی پارٹی چلا رہے ہیں ۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ قومی عاملہ اجلاس نے ہریانہ کنوینر نوین جئے ہند کا استعفیٰ بھی مسترد کردیا ہے ۔
پارٹیوں میں کہیں نہ کہیں ہمیشہ اختلافات ہوتے ہیں ان تمام اختلافات کو مثبت اور خوشگوار طریقہ سے حل کرلیا جائے گا ۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام استعفوں کو مسترد کردیا جائے اور ناراض قائدین کو منوایا جائے ۔ قبل ازیں اروند کجریوال نے یہ کہا تھا کہ ہمارے سوچ اور فکر درست سمت میں جاری ہے ۔ بہت جلد پارٹی کی تنظیم جدید کی جائے گی جس میں عام ادمی پارٹی کی سیاسی امور کمیٹی کو توسیع دے کر اسے اعلی درجہ کے فیصلہ ساز ادارہ میں تبدیل کیا جائے گا ۔ یوگیندر یادو نے پارٹی کی توجہ اہم مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا ۔ ذرائع نے کہا کہ اروند کجریوال نے یوگیندر یادو سے بات چیت کی ہے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یوگیندر یادو نے بعض اہم مسائل اٹھائے ہیں جن کو حل کرلیا جائے گا ۔ وہ ہمارے عزیز دوست ہیں اور ایک قابل قدر ساتھی بھی ہیں ۔۔